ایسے عالم میں گزاری کہ گزاری نہ گئی
زندگی ہم سے کسی طور سنواری نہ گئی
جب کسی بزمِ طربناک میں جانا چاہا
خلعت رنج و الم تن سے اتاری نہ گئی
تم مجھے چھوڑ گئے ہو تو تمہاری مرضی
ہاں مگر دل سے کبھی یاد تمہاری نہ گئی
ایسے عالم میں گزاری کہ گزاری نہ گئی
زندگی ہم سے کسی طور سنواری نہ گئی
جب کسی بزمِ طربناک میں جانا چاہا
خلعت رنج و الم تن سے اتاری نہ گئی
تم مجھے چھوڑ گئے ہو تو تمہاری مرضی
ہاں مگر دل سے کبھی یاد تمہاری نہ گئی
کب مجھ کو زعمِ خویش کہ میں برگزیدہ ہوں
سن لے مِری صدا کہ بہت دل دریدہ ہوں
دے نالۂ فراق کو داؤدؑ کی زباں
میں ہوں زبورِعشق مگر ناشنیدہ ہوں
گہ فرط و انبساط ہوں عہدِوصال میں
گہ عارضِ فراق پہ اشکِ چکیدہ ہوں
محاذِ نور سے یکسر ہٹا دئیے گئے ہم
مثالِ شمعِ سحری بُجھا دئیے گئے ہم
سروں کی فصل پہ شاید زکوٰۃ واجب تھی
سو اس نصاب سے اب کے گھٹا دئیے گئے ہم
مکینِ خُلد ہیں ہم بھی نسب کی نسبت سے
زمیں پہ حسبِ مشیت بسا دئیے گئے ہم
ہم نے خیالِ سختئ جادہ نہیں کیا
ترکِ سفر کا کوئی ارادہ نہیں کیا
عشّاقِ عہدِ نِو نے سرِ رہگزارِ شوق
گردِ سفر کو تن کا لبادہ نہیں کیا
ہم نے بھی لوٹ آنے میں تاخیر کی بہت
اس نے بھی انتظار زیادہ نہیں کیا
ہجر ہے، یاس ہے، وحشت کا سماں ہے میں ہوں
عمر ٹہرے ہوئے موسم میں رواں ہے، میں ہوں
میرے دامن میں جو گنجینۂ گُل ہے، تُو ہے
تیرے دامن میں جو اک برگِ خزاں ہے، میں ہوں
از زمیں تا بہ فلک رات کا سنّاٹا ہے
ایسے عالم میں جو یہ شورِ فُغاں ہے، میں ہوں
شامِ غربت جو سرِ صبحِ وطن ٹُوٹتی ہے
دیکھ کے تجھ کو نگاہوں کی تھکن ٹوٹتی ہے
ہنستا رہتا ہوں کہ چھپ جائیں تِرے غم کے نقوش
خندۂ لب سے جبینوں کی شکن ٹوٹتی ہے
پا بجولاں رہِ پُر خار پہ چلنے والو
کوئی دن اور کہ کانٹوں کی چُبھن ٹوٹتی ہے
حکم تیرا ہے سو تاویل نہیں ہو سکتی
اور گراں ایسا کہ تعمیل نہیں ہو سکتی
تم ہی ہو مسندِ معشوق پہ فائز اب تک
یہ جگہ وہ ہے جو تبدیل نہیں ہو سکتی
عرصۂ زیست کی تکمیل تو ہو جاتی ہے
خواہشِ زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی