Showing posts with label مینا خان. Show all posts
Showing posts with label مینا خان. Show all posts

Sunday, 9 August 2026

چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

 چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

بہت ہی خوب صورت پھول

الگ رنگت بھی ہے ان کی

جدا خوشبو بھی ہے ان کی

ہوا چلتی ہے جب بھی تو

سبھی پھولوں کو آپس میں

Tuesday, 17 March 2026

یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے

 یوں آپ جو آسودۂ غم کرتے رہیں گے

ہم درد دل و جان کو کم کرتے رہیں گے

سمجھے تھے کہ وہ شکوے گِلے بھُول گئے ہیں

معلوم نہ تھا دل پہ رقم کرتے رہیں گے

رکھیں گے تِرے غم کو زمانے سے چھپا کر

تنہائی میں ہم آنکھ کو نم کرتے رہیں گے

Monday, 20 May 2024

ہم نے جس کے لیے پھولوں کے جہاں چھوڑے ہیں

 ہم نے جس کے لیے پھولوں کے جہاں چھوڑے ہیں

اس نے اس دل میں فقط زخم نہاں چھوڑے ہیں

ہم نے خود اپنے اصولوں کی حفاظت کے لیے

دولتیں چھوڑ دیں شہرت کی جہاں چھوڑے ہیں

زندگی ہم نے تِرا ساتھ نبھانے کے لیے

تپتے صحرا میں بھی قدموں کے نشاں چھوڑے ہیں

Tuesday, 15 February 2022

زندگی جیسا لبھاؤں گی چلی جاؤں گی

 زندگی جیسا لبھاؤں گی، چلی جاؤں گی

میں تِرے خواب میں آؤں گی چلی جاؤں گی

اس نے دیکھا ہی نہیں عزمِ مصمم میرا

ہجر اوڑھوں گی بچھاؤں گی چلی جاؤں گی

یہ کہانی تو مصنف کی چلے گی برسوں

میں تو کردار نبھاؤں گی، چلی جاؤں گی

Saturday, 24 April 2021

چلو ہم مان لیتے ہیں بچھڑنا ہی ضروری ہے

 بچھڑنا ہی ضروری ہے


چلو ہم مان لیتے ہیں بچھڑنا ہی ضروری ہے

چلو ہم مان لیتے ہیں مقدر میں ہی دوری ہے

چلو ہم مان لیتے ہیں تمہاری جو ہے مجبوری

چلو ہم مان لیتے ہیں ملے ہم دیر سے تم سے

چلو مانا کہ باندھے ہے رسن حالات کی تم کو

چلو مانا جدائی کے سوا چارہ نہیں کوئی