زندگی جیسا لبھاؤں گی، چلی جاؤں گی
میں تِرے خواب میں آؤں گی چلی جاؤں گی
اس نے دیکھا ہی نہیں عزمِ مصمم میرا
ہجر اوڑھوں گی بچھاؤں گی چلی جاؤں گی
یہ کہانی تو مصنف کی چلے گی برسوں
میں تو کردار نبھاؤں گی، چلی جاؤں گی
میں وہ جگنو ہوں جو تاروں کے سہارے کے بغیر
بحر ظلمات مٹاؤں گی، چلی جاؤں گی
زندگی مجھ کو ذرا اتنی تو مہلت دینا
شمعِ امید جلاؤں گی، چلی جاؤں گی
جاں لٹانی بھی پڑی مجھ کو وطن پر جو کبھی
خاک ماتھے پہ لگاؤں گی چلی جاؤں گی
اک نظر دیکھ لیں بس یہ مِری آنکھیں تجھ کو
عہد پھر اپنا نبھاؤں گی، چلی جاؤں گی
دل مرا ہو گیا جذبات سے عاری مینا
اشک بھی اب نہ بہاؤ ں گی چلی جاؤں گی
مینا خان
نسیم خانم
No comments:
Post a Comment