Tuesday, 15 February 2022

اک پل میں اشک بن کے پگھلنے لگا بدن

 اک پل میں اشک بن کے پگھلنے لگا بدن

کل رات اس کی یاد میں جلنے لگا بدن

خوشبو جب اس کے لمس کی مجھ میں سما گئی

پھولوں کے ساتھ ساتھ مہکنے لگا بدن

چادر تمہاری یاد کی پھر ہم نے اوڑھ لی

دن بھر کی جب تھکان سے دُکھنے لگا بدن

مجبوریوں نے چین بھی لینے نہیں دیا

تھک کر بھی مشکلات سے لڑنے لگا بدن

اتنی ہوئی خوشی مجھے دو گز زمین کی

کپڑے نئے پہن لیے سجنے لگا بدن

پھر زندگی سے کوئی بھی شکوہ نہیں رہا

جب حادثوں سے روز گزرنے لگا بدن


امن علی امن

No comments:

Post a Comment