اک پل میں اشک بن کے پگھلنے لگا بدن
کل رات اس کی یاد میں جلنے لگا بدن
خوشبو جب اس کے لمس کی مجھ میں سما گئی
پھولوں کے ساتھ ساتھ مہکنے لگا بدن
چادر تمہاری یاد کی پھر ہم نے اوڑھ لی
دن بھر کی جب تھکان سے دُکھنے لگا بدن
مجبوریوں نے چین بھی لینے نہیں دیا
تھک کر بھی مشکلات سے لڑنے لگا بدن
اتنی ہوئی خوشی مجھے دو گز زمین کی
کپڑے نئے پہن لیے سجنے لگا بدن
پھر زندگی سے کوئی بھی شکوہ نہیں رہا
جب حادثوں سے روز گزرنے لگا بدن
امن علی امن
No comments:
Post a Comment