Tuesday, 15 February 2022

چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو

 چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو

تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو

جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر

زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو

اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار

دل نے کچھ ٹوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو

عمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جُھریاں اتنی

عین ممکن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو

ایسا ہمدرد تِرے بعد کہاں تھا، جس نے

لغزشوں پر بھی مِری کُھل کے حمایت کی ہو

دل شکستہ ہے،۔ کوئی ایسا ہنر مند بتا

جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو

شب کے دامن میں وہی نور بھریں گے احمد

جن چراغوں نے اندھیرے سے بغاوت کی ہو


احمد خلیل

No comments:

Post a Comment