کروڑ پتی
جب بھی دیکھوں میں ٹی وی
پوچھیں مجھ سے بچن جی
کون بنے گا کروڑ پتی
میں کہتا ہوں ان سے یہی
میں نہ بنوں گا کروڑ پتی
کروڑ پتی
جب بھی دیکھوں میں ٹی وی
پوچھیں مجھ سے بچن جی
کون بنے گا کروڑ پتی
میں کہتا ہوں ان سے یہی
میں نہ بنوں گا کروڑ پتی
ماضی و حال
ماضی
اس وقت جب ظہیر تھا اک گبرو نوجواں
بُھولے ہوئے تھے عشق کے چکر میں ایں و آں
اُس دورِ پُر فریب کا کیا حال ہو بیاں
"تھا چار میل پر مِرے محبوب کا مکاں"
"دس میل میں چلا گیا زورِ شباب میں"
اپنے ملک میں
اصلاح ملک کا نعرہ لگاتا رہا کوئی
مذہب کی ڈفلی لے کے بجاتا رہا کوئی
بن کر مداری سانپ نچاتا رہا کوئی
اور مال لُوٹ لٗوٹ کے کھاتا رہا کوئی
اپنے وطن میں سب کا یہی حال ہو گیا
ایمان داریوں کا یہاں کال ہو گیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تمنا، آرزو حسرت مِرے سینے میں رہتی ہے
کروں جب آپؐ کی باتیں نمی آنکھوں میں رہتی ہے
مواجہ کی حدوں میں ہوں کہ ہوں طیبہ کی گلیوں میں
سلام اپنے لبوں پر، بندگی آنکھوں میں رہتی ہے
نبیﷺ کے در سے واپس آ کے ایسا حال ہے اپنا
کوئی بستی ہو طیبہ کی گلی آنکھوں میں رہتی ہے
سُنی سنائی سی تھیں بے وفائیاں کیا کیا
بنائیں لوگوں نے لیکن کہانیاں کیا کیا
اسے تو کارِ جہاں سے نہیں مِلی فُرصت
ہوئی ہیں دل کو مگر بدگُمانیاں کیا کیا
اُداسی، درد و غم و رنج، ہجر تنہائی
ملی ہیں پیار کی ہم کو نشانیاں کیا کیا