Showing posts with label ظہیر قدسی. Show all posts
Showing posts with label ظہیر قدسی. Show all posts

Tuesday, 2 April 2024

میں نہ بنوں گا کروڑ پتی

 کروڑ پتی


جب بھی دیکھوں میں ٹی وی

پوچھیں مجھ سے بچن جی

کون بنے گا کروڑ پتی

میں کہتا ہوں ان سے یہی

میں نہ بنوں گا کروڑ پتی

Tuesday, 12 March 2024

ماضی و حال مجھے قریب سے اچھا دِکھائی دیتا ہے

 ماضی و حال

ماضی

اس وقت جب ظہیر تھا اک گبرو نوجواں

بُھولے ہوئے تھے عشق کے چکر میں ایں و آں

اُس دورِ پُر فریب کا کیا حال ہو بیاں

"تھا چار میل پر مِرے محبوب کا مکاں"

"دس میل میں چلا گیا زورِ شباب میں"

Wednesday, 31 January 2024

اصلاح ملک کا نعرہ لگاتا رہا کوئی

 اپنے ملک میں


اصلاح ملک کا نعرہ لگاتا رہا کوئی

مذہب کی ڈفلی لے کے بجاتا رہا کوئی

بن کر مداری سانپ نچاتا رہا کوئی

اور مال لُوٹ لٗوٹ کے کھاتا رہا کوئی

اپنے وطن میں سب کا یہی حال ہو گیا

ایمان داریوں کا یہاں کال ہو گیا

Sunday, 28 January 2024

تمنا آرزو حسرت مرے سینے میں رہتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تمنا، آرزو حسرت مِرے سینے میں رہتی ہے

کروں جب آپؐ کی باتیں نمی آنکھوں میں رہتی ہے

مواجہ کی حدوں میں ہوں کہ ہوں طیبہ کی گلیوں میں

سلام اپنے لبوں پر، بندگی آنکھوں میں رہتی ہے

نبیﷺ کے در سے واپس آ کے ایسا حال ہے اپنا

کوئی بستی ہو طیبہ کی گلی آنکھوں میں رہتی ہے

Saturday, 27 January 2024

سنی سنائی سی تھیں بے وفائیاں کیا کیا

 سُنی سنائی سی تھیں بے وفائیاں کیا کیا​

بنائیں لوگوں نے لیکن کہانیاں کیا کیا​

اسے تو کارِ جہاں سے نہیں مِلی فُرصت​

ہوئی ہیں دل کو مگر بدگُمانیاں کیا کیا​

اُداسی، درد و غم و رنج، ہجر تنہائی​

ملی ہیں پیار کی ہم کو نشانیاں کیا کیا