آپ کے قرب میں جان جاں سارے موسم سہانے لگے
زیست مشکل ہوئی جس گھڑی چھوڑ کر آپ جانے لگے
مے کدہ اور یہ جام و سبو تھے بھلا کب مری جستجو
مرہمِ عشق درکار تھا ہم بھی پینے پلانے لگے
موت کی انت ہچکی تلک بھول پائے نہ ہم آپ کو
دکھ مگر ہے مجھے آپکو سارے جھوٹے فسانے لگے