Showing posts with label عرفان حیدر. Show all posts
Showing posts with label عرفان حیدر. Show all posts

Thursday, 22 September 2022

آپ کے قرب میں جان جاں سارے موسم سہانے لگے

 آپ کے قرب میں جان جاں سارے موسم سہانے لگے 

زیست مشکل ہوئی جس گھڑی چھوڑ کر آپ جانے لگے

مے کدہ اور یہ جام و سبو تھے بھلا کب مری جستجو

مرہمِ عشق درکار تھا ہم بھی پینے پلانے لگے 

موت کی انت ہچکی تلک بھول پائے نہ ہم آپ کو

دکھ مگر ہے مجھے آپکو سارے جھوٹے فسانے لگے

Monday, 19 September 2022

ذکر حسن حسین سخن در سخن رہے

 عارفانہ کلام منقبت سلام


ذکرِ حسنؑ حسینؑ سخن در سخن رہے

زندہ غمِ حسینؑ کی یہ انجمن رہے

یا رب! مِری زبان  کو میثم شناس کر

سُولی پہ چڑھ کے ذکرِ علیؑ میں مگن رہے

الحاد، شر، نفاق، ولایت کی دشمنی 

پاکیزہ ہر مرض سے ہمارا وطن رہے

Sunday, 18 September 2022

میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اجڑ رہا ہے دیار دل کا

 میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اجڑ رہا ہے دیار دل کا

عروج پر میری بے بسی ہے کہ چِھن گیا ہے قرار دل کا

عجیب سی ایک کشمکش ہے لیے کھڑا ہوں میں ایک میّت

وجودِ حسرت بہت بڑا ہے، مگر ہے چھوٹا مزار دل کا

یہی سنا میں نے عقل مندوں سے، اپنا بھی تلخ تجربہ ہے 

بہت میں رویا ہوں آج چھپ کر، نکل گیا ہے غبار دل کا

روز اول سے ولایت کا جو اقرار کیا

 عارفانہ کلام منقبت سلام


روزِ اول سے ولایت کا جو اقرار کیا 

اس عقیدے کا سرِ دار بھی اظہار کیا 

حکمِ ربّی ہے ولایت کی گواہی، لیکن

مفتیوں نے مِرے جینے کو ہے دشوار کیا

کیوں نہ مقروض حسینؑ ابنِ علیؑ ہوں اس کے

جس کی آغوش نے غازیؑ کو وفادار کیا

Saturday, 17 September 2022

تو دیکھ لے ہے قافلہ رواں دواں حسین کا

 عارفانہ کلام منقبت سلام


تو دیکھ لے ہے قافلہ رواں دواں حسینؑ کا

نہ روک پائے گا تُو ذکرِ جاوداں حسینؑ کا

ہے مختصر ، نہیں ہے موت کا جسے کوئی بھی ڈر

یہ انتخابِ کبریاﷻ، ہے کارواں حسینؑ کا 

حسین حق کی صوت ہے ، یزیدیت کی موت ہے

یزیدیت کو ڈر ہے بس یہاں وہاں حسینؑ کاؑ