میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اجڑ رہا ہے دیار دل کا
عروج پر میری بے بسی ہے کہ چِھن گیا ہے قرار دل کا
عجیب سی ایک کشمکش ہے لیے کھڑا ہوں میں ایک میّت
وجودِ حسرت بہت بڑا ہے، مگر ہے چھوٹا مزار دل کا
یہی سنا میں نے عقل مندوں سے، اپنا بھی تلخ تجربہ ہے
بہت میں رویا ہوں آج چھپ کر، نکل گیا ہے غبار دل کا
ہے بیوفائی، ہے کج ادائی غموں کی پرچھائی جابجا ہے
مِری کہانی میں کوئی کردار بھی نہیں غمگسار دل کا
خزائیں کرتی ہیں راج ہر سُو اگرچہ میرے دیار دل پر
ضرور موسم بنے گا عرفان اک نہ اک دن بہار دل کا
عرفان حیدر
No comments:
Post a Comment