سوزِ درون، ذات کی آواز بن گیا
تارِ نفس، نفس نہ رہا ساز بن گیا
چرچا اس طرح ہوا تیرے خصال کا
ہر ظلم ناروا تیرا انداز بن گیا
ہر اک ستم جواز ستم ڈھونڈنے لگا
فتنہ جو تھا وہ فِتنہ پرداز بن گیا
سوزِ درون، ذات کی آواز بن گیا
تارِ نفس، نفس نہ رہا ساز بن گیا
چرچا اس طرح ہوا تیرے خصال کا
ہر ظلم ناروا تیرا انداز بن گیا
ہر اک ستم جواز ستم ڈھونڈنے لگا
فتنہ جو تھا وہ فِتنہ پرداز بن گیا
خودی کی انتہائی مات کہیے
محبت کو شکست ذات کہیے
اثر انگیزی کے حالات کہیے
کچھ اپنے بھی تو احساسات کہیے
بہت تمہید سن لی دردِ دل کی
جو کہنا چاہتے ہیں بات، کہیے
وقت ہر چند ہے کڑا دُختر
ہار دینا نہ حوصلہ دختر
ہے تپش تیز تر شبِ غم کی
اوڑھ لو دھوپ کی رِدا دختر
زندگی پر محیط ہوتا ہے
ایک لمحے کا فیصلہ دختر
غمِ حیات سے کچھ واسطہ تو رکھنا ہے
وفا کا جو ہے طریقہ روا تو رکھنا ہے
نہ جانے کون سی رُت میں ہو خواہشِ منزل
سفر کریں نہ کریں راستہ تو رکھنا ہے
زمانہ جان تو لے ہم ہیں تیرگی کے خلاف
بھلے ہوائیں بُجھا دیں، دِیا تو رکھنا ہے
دسترس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے
وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے
صاحبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے
ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے
ہم نے رو لیں ہیں گہر اشکِ ندامت کے بہت
ہوں نہ منظور یہ سوغات تو پھر کیا کیجیے
دل احتسابِ ذات کی زد میں ہے آج کل
ہر اک عمل گناہ کی مد میں ہے آج کل
اطرافِ جاں میں رقص ہے شعلوں کا دم بدم
سایہ بھی اپنے جسم کے قد میں ہے آج کل
امواج جذبِ عشق کی سب سر نِگوں ہوئیں
دریائے اضطراب بھی حد میں ہے آج کل
رابطہ جسم کا جب روح سے کٹ جاتا ہے
آدمی مختلف حالات میں بٹ جاتا ہے
دیکھ کر ساحل دریا کا سکوت پیہم
چڑھ کے آیا ہوا طوفاں بھی پلٹ جاتا ہے
آئینہ دیکھ کے ہوتا ہے توہم کا اسیر
قد وہی ہوتا ہے پر آدمی گھٹ جاتا ہے
یہ ارض کیا ہے خلا کیا ہے اور سما کیا ہے
تِری ہی ذات ہے ہر سُو، تِرے سوا کیا ہے
جو سوزِ دل سے مبرا ہو وہ دعا کیا ہے
جو روح میں نا اتر جائے وہ صدا کیا ہے
سنبھالا در کو تو دیوار گر پڑی یارو
یہ اتفاق اگر ہے تو سانحہ کیا ہے
اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ان تھکے تھکے موسموں کو دیوانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
احباب کا دکھ، اغیار کا غم، اپنوں کا گلہ، دشمن کے ستم
بے کیف و سرور اس دنیا کو آشیانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہیں دل و جگر ہی دشمن جاں پر دل و جگر تو اپنے ہیں
جب اپنے ہیں تو اپنوں کو بیگانہ لکھوں تو کیسے لکھوں