Showing posts with label سید مجتبیٰ داودی. Show all posts
Showing posts with label سید مجتبیٰ داودی. Show all posts

Sunday, 5 November 2023

سوز درون ذات کی آواز بن گیا

 سوزِ درون، ذات کی آواز بن گیا

تارِ نفس، نفس نہ رہا ساز بن گیا

چرچا اس طرح ہوا تیرے خصال کا

ہر ظلم ناروا تیرا انداز بن گیا

ہر اک ستم جواز ستم ڈھونڈنے لگا

فتنہ جو تھا وہ فِتنہ پرداز بن گیا

Saturday, 4 November 2023

خودی کی انتہائی مات کہیے

 خودی کی انتہائی مات کہیے

محبت کو شکست ذات کہیے

اثر انگیزی کے حالات کہیے

کچھ اپنے بھی تو احساسات کہیے

بہت تمہید سن لی دردِ دل کی

جو کہنا چاہتے ہیں بات، کہیے

Tuesday, 17 October 2023

وقت ہر چند ہے کڑا دختر

 وقت ہر چند ہے کڑا دُختر

ہار دینا نہ حوصلہ دختر

ہے تپش تیز تر شبِ غم کی

اوڑھ لو دھوپ کی رِدا دختر

زندگی پر محیط ہوتا ہے

ایک لمحے کا فیصلہ دختر

Tuesday, 10 October 2023

غم حیات سے کچھ واسطہ تو رکھنا ہے

 غمِ حیات سے کچھ واسطہ تو رکھنا ہے

وفا کا جو ہے طریقہ روا تو رکھنا ہے

نہ جانے کون سی رُت میں ہو خواہشِ منزل

سفر کریں نہ کریں راستہ تو رکھنا ہے

زمانہ جان تو لے ہم ہیں تیرگی کے خلاف

بھلے ہوائیں بُجھا دیں، دِیا تو رکھنا ہے

Monday, 9 October 2023

دسترس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے

 دسترس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے

وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے

صاحبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے

ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے

ہم نے رو لیں ہیں گہر اشکِ ندامت کے بہت

ہوں نہ منظور یہ سوغات تو پھر کیا کیجیے

Saturday, 7 October 2023

دل احتساب ذات کی زد میں ہے آج کل

 دل احتسابِ ذات کی زد میں ہے آج کل

ہر اک عمل گناہ کی مد میں ہے آج کل

اطرافِ جاں میں رقص ہے شعلوں کا دم بدم

سایہ بھی اپنے جسم کے قد میں ہے آج کل

امواج جذبِ عشق کی سب سر نِگوں ہوئیں

دریائے اضطراب بھی حد میں ہے آج کل

Friday, 6 October 2023

رابطہ جسم کا جب روح سے کٹ جاتا ہے

 رابطہ جسم کا جب روح سے کٹ جاتا ہے

آدمی مختلف حالات میں بٹ جاتا ہے

دیکھ کر ساحل دریا کا سکوت پیہم

چڑھ کے آیا ہوا طوفاں بھی پلٹ جاتا ہے

آئینہ دیکھ کے ہوتا ہے توہم کا اسیر

قد وہی ہوتا ہے پر آدمی گھٹ جاتا ہے

Thursday, 5 October 2023

یہ ارض کیا ہے خلا کیا ہے اور سما کیا ہے

 یہ ارض کیا ہے خلا کیا ہے اور سما کیا ہے

تِری ہی ذات ہے ہر سُو، تِرے سوا کیا ہے

جو سوزِ دل سے مبرا ہو وہ دعا کیا ہے

جو روح میں نا اتر جائے وہ صدا کیا ہے

سنبھالا در کو تو دیوار گر پڑی یارو

یہ اتفاق اگر ہے تو سانحہ کیا ہے

Wednesday, 4 October 2023

اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں

 اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں

ان تھکے تھکے موسموں کو دیوانہ لکھوں تو کیسے لکھوں

احباب کا دکھ، اغیار کا غم، اپنوں کا گلہ، دشمن کے ستم

بے کیف و سرور اس دنیا کو آشیانہ لکھوں تو کیسے لکھوں

ہیں دل و جگر ہی دشمن جاں پر دل و جگر تو اپنے ہیں

جب اپنے ہیں تو اپنوں کو بیگانہ لکھوں تو کیسے لکھوں