Friday, 6 October 2023

رابطہ جسم کا جب روح سے کٹ جاتا ہے

 رابطہ جسم کا جب روح سے کٹ جاتا ہے

آدمی مختلف حالات میں بٹ جاتا ہے

دیکھ کر ساحل دریا کا سکوت پیہم

چڑھ کے آیا ہوا طوفاں بھی پلٹ جاتا ہے

آئینہ دیکھ کے ہوتا ہے توہم کا اسیر

قد وہی ہوتا ہے پر آدمی گھٹ جاتا ہے

کوئی خوشبو غم حالات کو ملتی ہوگی

سانپ بن کے جو رگ جاں سے لپٹ جاتا ہے

پھر اسے ملتی نہیں منزل مقصود کبھی

جادۂ عشق سے اک گام جو ہٹ جاتا ہے

دل بھی کیا شئے ہے بھلا دیتا ہے سارے مضمون

اور اک لفظ جو مقصود ہے رٹ جاتا ہے

ہر نئی صبح کا مضمون نیا ہے شاعر

ہر نئی صبح کو اک صفحہ پلٹ جاتا ہے


سید مجتبیٰ داودی

No comments:

Post a Comment