Friday, 6 October 2023

زندگی عشق کی وحشت بھرا افسانہ تھی

 دیوداس


زندگی عشق کی وحشت بھرا افسانہ تھی

میرے ہاتھوں میں وہ اک زہر کا پیمانہ تھی

روح کا غم مئے گلفام سے کم کیا ہوتا

کوئی تریاق بجز وصل صنم کیا ہوتا

کھو گئی پاربتی، روتی رہی چندر مکھی

زندگی لُٹتی رہی راہگزاروں میں مِری

غمگساروں کی بھی یاد آئی، مگر بُھول گیا

اس کی بانہوں کے سوا کچھ نہ مجھے یاد رہا

اک اُبھرتی رہی تصویر، خلا میں برسوں

میں اکیلا ہی پِھرا دشتِ وفا میں برسوں

جل بُجھا جسم کے ہمراہ، دلِ سوزاں تک

جان دینے چلا آیا ہوں درِ جاناں تک

مر رہوں، جیسے بے بس و لاچار مِرے

کیا قیامت ہے کہ یوں عشق کا بیمار مِرے

نا اُمیدی ہے کہ اب طاقت دیدار گئی

رُخِ جاناں کی ہوس، روح گرفتار گئی

رات لو ختم ہوئی، اور زباں بند ہوئی

مجھ کو معلوم تھا خاموش سویرا ہو گا

لوگ پھینک آئیں گے مجھ کو جہاں اس مرگھٹ پر

موت کا چھایا ہوا گھور اندھیرا ہو گا

چِیل کوؤں نے مگر لاش کے ٹکڑے کر کے

ہر طرف کوچۂ جاناں میں بکھیرا ہو گا


انجم اعظمی

No comments:

Post a Comment