دیوداس
زندگی عشق کی وحشت بھرا افسانہ تھی
میرے ہاتھوں میں وہ اک زہر کا پیمانہ تھی
روح کا غم مئے گلفام سے کم کیا ہوتا
کوئی تریاق بجز وصل صنم کیا ہوتا
کھو گئی پاربتی، روتی رہی چندر مکھی
زندگی لُٹتی رہی راہگزاروں میں مِری
غمگساروں کی بھی یاد آئی، مگر بُھول گیا
اس کی بانہوں کے سوا کچھ نہ مجھے یاد رہا
اک اُبھرتی رہی تصویر، خلا میں برسوں
میں اکیلا ہی پِھرا دشتِ وفا میں برسوں
جل بُجھا جسم کے ہمراہ، دلِ سوزاں تک
جان دینے چلا آیا ہوں درِ جاناں تک
مر رہوں، جیسے بے بس و لاچار مِرے
کیا قیامت ہے کہ یوں عشق کا بیمار مِرے
نا اُمیدی ہے کہ اب طاقت دیدار گئی
رُخِ جاناں کی ہوس، روح گرفتار گئی
رات لو ختم ہوئی، اور زباں بند ہوئی
مجھ کو معلوم تھا خاموش سویرا ہو گا
لوگ پھینک آئیں گے مجھ کو جہاں اس مرگھٹ پر
موت کا چھایا ہوا گھور اندھیرا ہو گا
چِیل کوؤں نے مگر لاش کے ٹکڑے کر کے
ہر طرف کوچۂ جاناں میں بکھیرا ہو گا
انجم اعظمی
No comments:
Post a Comment