سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں
میں بھوک کو خریدوں نوالوں کو بیچ دوں
ڈر ہے کہ تیرگی کو بتا دیں گے میرا عیب
چن چن کے گھر کے سارے اجالوں کو بیچ دوں
ممکن ہے بیچ دوں کبھی اپنے سخن کو میں
ایسا بھی اب نہیں کہ خیالوں کو بیچ دوں
سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں
میں بھوک کو خریدوں نوالوں کو بیچ دوں
ڈر ہے کہ تیرگی کو بتا دیں گے میرا عیب
چن چن کے گھر کے سارے اجالوں کو بیچ دوں
ممکن ہے بیچ دوں کبھی اپنے سخن کو میں
ایسا بھی اب نہیں کہ خیالوں کو بیچ دوں
ہمیشہ دھیان میں رکھیو، بڑی کرسی بڑا غصہ
کہیں مہنگا نہ پڑ جائے ہمیں سرکار کا غصہ
میں اکثر مِرچ سالن میں زیادہ ڈال دیتی ہوں
کسی صورت تو ظاہر ہو مِری رنجش مِرا غصہ
چلو اب مان بھی لو تم، تمہیں ذہنی مسائل ہیں
زرا سی بات پہ کرتے ہو تم اچھا بھلا غصہ
وحشت جب التجاؤں کے حصے میں آ گئی
زاری پھٹی رداؤں کے حصے میں آ گئی
اک شہر تیرے نام سے منسوب ہو گیا
تہذیب میرے گاؤں کے حصے میں آ گئی
ایڑی رگڑ کے ہار گئے آج کے عوام
اور جیت رہمناؤں کے حصے میں آگئی
شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے
یہ روایت خاندانی ہے تو ہے
لازمی تھا کچھ سوالوں کا جواب
چلیے پھر یہ بد زبانی ہے تو ہے
ہم تو اک تصویر ان کو دے چکے
اب بھلے یہ مہربانی ہے تو ہے
تکلم کے بہانے ڈھونڈتے ہیں
وہ اب میسج پرانے ڈھونڈتے ہیں
عجب پاگل ہیں ہم پردیس میں بھی
سکوں کے آشیانے ڈھونڈتے ہیں
حقیقت کو چھپا کر گیلری میں
نہ جانے کیا فسانے ڈھونڈتے ہیں
دشمن تُو مِرے دھیان سے آگے کی بات کر
اب تیر اور کمان سے آگے کی بات کر
لے کر لیا قبول کہ میں ہوں انا پرست
عشق اب مِرے بیان سے آگے کی بات کر
رہتے ہیں خیمہ ڈال کر تیرے خیال میں
اب کوٹھی یا مکان سے آگے کی بات کر
بس ایک بار کہا نا نہیں بنا سکتی
میں روز روز بہانا نہیں بنا سکتی
تِرا خیال مِری روٹیاں جلاتا ہے
میں اطمینان سے کھانا نہیں بنا سکتی
ضرور وہ کسی آسیب کی گرفت میں ہے
میں اس قدر تو دِوانہ نہیں بنا سکتی