Showing posts with label شازیہ نیازی. Show all posts
Showing posts with label شازیہ نیازی. Show all posts

Friday, 18 November 2022

سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں

 سوداگری کے سارے حوالوں کو بیچ دوں

میں بھوک کو خریدوں نوالوں کو بیچ دوں

ڈر ہے کہ تیرگی کو بتا دیں گے میرا عیب

چن چن کے گھر کے سارے اجالوں کو بیچ دوں

ممکن ہے بیچ دوں کبھی اپنے سخن کو میں

ایسا بھی اب نہیں کہ خیالوں کو بیچ دوں

Thursday, 2 December 2021

ہمیشہ دھیان میں رکھیو بڑی کرسی بڑا غصہ

 ہمیشہ دھیان میں رکھیو، بڑی کرسی بڑا غصہ

کہیں مہنگا نہ پڑ جائے ہمیں سرکار کا غصہ

میں اکثر مِرچ سالن میں زیادہ ڈال دیتی ہوں

کسی صورت تو ظاہر ہو مِری رنجش مِرا غصہ

چلو اب مان بھی لو تم، تمہیں ذہنی مسائل ہیں

زرا سی بات پہ کرتے ہو تم اچھا بھلا غصہ

Sunday, 5 September 2021

وحشت جب التجاؤں کے حصے میں آ گئی

 وحشت جب التجاؤں کے حصے میں آ گئی

زاری پھٹی رداؤں کے حصے میں آ گئی

اک شہر تیرے نام سے منسوب ہو گیا

تہذیب میرے گاؤں کے حصے میں آ گئی

ایڑی رگڑ کے ہار گئے آج کے عوام

اور جیت رہمناؤں کے حصے میں آگئی

Tuesday, 31 August 2021

شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے

 شاعری یا لن ترانی ہے تو ہے 

یہ روایت خاندانی ہے تو ہے 

لازمی تھا کچھ سوالوں کا جواب 

چلیے پھر یہ بد زبانی ہے تو ہے 

ہم تو اک تصویر ان کو دے چکے 

اب بھلے یہ مہربانی ہے تو ہے 

Monday, 30 August 2021

تکلم کے بہانے ڈھونڈتے ہیں

 تکلم کے بہانے ڈھونڈتے ہیں

وہ اب میسج پرانے ڈھونڈتے ہیں 

عجب پاگل ہیں ہم پردیس میں بھی 

سکوں کے آشیانے ڈھونڈتے ہیں 

حقیقت کو چھپا کر گیلری میں

نہ جانے کیا فسانے ڈھونڈتے ہیں

Sunday, 29 August 2021

دشمن تو مرے دھیان سے آگے کی بات کر

 دشمن تُو مِرے دھیان سے آگے کی بات کر 

اب تیر اور کمان سے آگے کی بات کر 

لے کر لیا قبول کہ میں ہوں انا پرست

عشق اب مِرے بیان سے آگے کی بات کر

رہتے ہیں خیمہ ڈال کر تیرے خیال میں 

اب کوٹھی  یا مکان سے آگے کی بات کر

Sunday, 20 June 2021

بس ایک بار کہا نا نہیں بنا سکتی

 بس ایک بار کہا نا نہیں بنا سکتی

میں روز روز بہانا نہیں بنا سکتی

تِرا خیال مِری روٹیاں جلاتا ہے

میں اطمینان سے کھانا نہیں بنا سکتی

ضرور وہ کسی آسیب کی گرفت میں ہے

میں اس قدر تو دِوانہ نہیں بنا سکتی