Sunday, 5 September 2021

وحشت جب التجاؤں کے حصے میں آ گئی

 وحشت جب التجاؤں کے حصے میں آ گئی

زاری پھٹی رداؤں کے حصے میں آ گئی

اک شہر تیرے نام سے منسوب ہو گیا

تہذیب میرے گاؤں کے حصے میں آ گئی

ایڑی رگڑ کے ہار گئے آج کے عوام

اور جیت رہمناؤں کے حصے میں آگئی

عشق و وفا کی راہ تباہی شعار ہے

میں کس طرح بلاؤں کے حصے میں آ گئی

ناداں سپاہی جنگ میں دل ہار کر گیا

تلوار میرے پاؤں کے حصے میں آ گئی

اک بیج کی، شکم میں جو بنیاد پڑ گئی

دولت وفا کی ماؤں کے حصے میں آ گئی


شازیہ نیازی

No comments:

Post a Comment