Showing posts with label عزیز الحسن مجذوب. Show all posts
Showing posts with label عزیز الحسن مجذوب. Show all posts

Wednesday, 13 July 2022

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

 جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے


جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے

مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بُو نے

کبھی غور سے بھی دیکھا ہے تو نے

جو معمور تھے وہ محل اب ہیں سُونے

Saturday, 29 August 2020

جو صورت گیر حسن و عشق کی دنیا کہیں ہوتی

جو صورت گیر حسن و عشق کی دنیا کہیں ہوتی
تِرے ضو کا فلک بنتا مِرے ظل کی زمیں ہوتی
تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ کوئی کہیں ہوتی
اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دل نشیں ہوتی
وہاں رہتے جہاں دود و فغاں کا آسماں ہوتا
وہاں بستے جہاں خاکسترِ دل کی زمیں ہوتی

محفل میں ذرا ہم سے وہ آنکھیں تو ملائیں

محفل میں ذرا ہم سے وہ آنکھیں تو ملائیں
جو دل میں ہے کہ جائیں سب اور لب نہ ہلائیں
مجذوب عجب ان کی ہیں مستانہ ادائیں
ہر حال میں کیف رلائیں کہ ہنسائیں
یہ ابر، یہ منظر، یہ ہوائیں، یہ فضائیں
کیا شاہدِ فطرت کی ہیں مستانہ ادائیں

وہ کیا جانے کہ زخم دل کہاں تک تھا کہاں تک ہے

عبث کہتا ہے چارہ گر یہاں تک تھا یہاں تک ہے
وہ کیا جانے کہ زخمِ دل کہاں تک تھا، کہاں تک ہے
مِرا خاموش ہو جانا،۔ دلیلِ مرگ ہے گویا
مثالِ نَے مِرا جینا فغاں تک تھا، فغاں تک ہے
نہ دھوکہ دے مجھے ہمدم وہ آیا ہے نہ آئے گا
پیامِ وعدۂ وصلت زباں تک تھا، زہاں تک ہے

Thursday, 27 August 2020

ادا شناس ترا بے زباں نہیں ہوتا

ادا شناس تِرا بے زباں نہیں ہوتا
کہے وہ کس سے کوئی نکتہ داں نہیں ہوتا
سب ایک رنگ میں ہیں میکدے کے خوردوکلاں
یہاں تفاوت پیر و جواں نہیں ہوتا
قمارِ عشق میں سب کچھ گنوا دیا میں نے
امیدِ نفع میں خوفِ زیاں نہیں ہوتا

پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں

پسِ پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں
کوئی محفل ہو ہم اس کو تِری محفل سمجھتے ہیں
بڑے ہُشیار ہیں وہ جن کو سب غافل سمجھتے ہیں
نظر پہچانتے ہیں وہ، مزاج دل سمجھتے ہیں
وہ خود کامل ہیں مجھ ناقص کو جو کامل سمجھتے ہیں
وہ حسنِ ظن سے اپنا ہی سا میرا دل سمجھتے ہیں

جلوہ فرماں دیر تک دلبر رہا​

جلوہ فرماں دیر تک دلبر رہا​
اپنی کہہ لی سب نے، میں شسدر رہا​
گو مِرا دشمن زمانہ بھر رہا​
مجھ پہ فضلِ خالقِ اکبر رہا​
گو مِرے در پے عدو اکثر رہا​
جو مِری قسمت کا تھا مل کر رہا​

Wednesday, 26 August 2020

دنیا سے اس طرح ہو رخصت غلام تیرا

موت کی یاد بارے کلام

دنیا سے اس طرح ہو رخصت غلام تیرا
ہو دل میں یاد تیری، ہو لب پہ نام تیرا
رگ رگ میں مرتے دم ہو، صدقِ یقیں کے باعث
تیرے نبیﷺ کی وقعت، اور احترام تیرا
منکر نکیر آ کر، دے جائیں یہ بشارت
تجھ کو رہے مبارک، حسنِ ختام تیرا

ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے

كل نفس ذائقۃ الموت

ہمیں کیا جو تُربت پہ میلے رہیں گے
تہِ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے
گل و غنچہ و سرو کھلتے رہیں گے، مہکتے گلاب اور بیلے رہیں گے
بہت سے گرو اور چیلے رہیں گے، بڑے عرس ہوں گے، جھمیلے رہیں گے
ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے
تہ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے

اک دن مرنا ہے آخر موت ہے

بلا شبہ موت برحق ہے

اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
سرکشی زیر فلک زیبا نہیں، دیکھ جانا ہے تجھے، زیر زمیں
جب تجھے مرنا ہے اک دن بالیقین، چھوڑ فکر ایں و آں کر فکرِ دیں
اک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے

Saturday, 15 August 2020

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی
ایک تم سے کیا محبت ہو گئی
ساری دنیا سے عداوت ہو گئی
یاس ہی اس دل کی فطرت ہو گئی
آرزو جو کی وہ حسرت ہو گئی

دل ہی سے کہہ رہا ہوں ماجرائے دل

رہنے دو چپ مجھے نہ سنو ماجرائے دل
میں حال دل کہوں تو ابھی منہ کو آئے دل
سمجھے کون کس سے کہوں راز ہائے دل
دل ہی سے کہہ رہا ہوں ماجرائے دل
کب تک یہ ہائے ہائے جگر ہائے ہائے دل
کر رحم اے خدائے جگر، اے خدائے دل

بہ فکر دشمناں رہنا بہ یاد دوستاں رہنا

کسی سے سیکھ لے بلبل سراپا داستاں رہنا
ہے ننگِ عشق حالِ دل کا محتاجِ بیاں رہنا
کوئی رہنے میں رہنا ہے یہ زیرِ آسماں رہنا
بہ فکرِ دشمناں رہنا، بہ یادِ دوستاں رہنا
جہاں رہنا ہمیں دنیا میں وقفِ امتحاں رہنا
کہیں جانا ہمیں ہِر پھر کے زیرِ آسماں رہنا