Showing posts with label فرخندہ شمیم. Show all posts
Showing posts with label فرخندہ شمیم. Show all posts

Wednesday, 26 April 2023

یہ کس بارود نے بچپن کی پگڈنڈی جلا ڈالی

 نوحہ 


یہ کس بارود نے بچپن کی پگڈنڈی جلا ڈالی

کہ جن پر بھاگتے ننھے سے پیروں نے نئی صبحوں کو چھونا تھا

کھلے افلاک پر ہنستے ستاروں سے لپٹنا تھا

تمہارا دکھ اکیلا دکھ نہیں ہے

ہوائیں آج بھی نوحہ کناں ہیں

Sunday, 23 April 2023

خدارا کفر مت تولو بہارو جھوٹ مت بولو

 بہارو جُھوٹ مت بولو

کسی جبل بلند قامت کی رفعت سے ذرا اونچی

ہوائے یاسمن کے عطر سے ملبوس کو چُھوتی

ستاروں سے کہیں اجمل

ستم ایجاد چشم ناز کا ہیبت تماشا

ہاتھ پر دھر کر

یہ کیسی رُت زمیں پر آن اتری ہے

Saturday, 22 April 2023

دریچہ وا کیا ہم نے تو جھونکا اولیں اٹھکیلیاں کرتا

 دریچہ


دریچہ وا کیا ہم نے

تو جھونکا اولیں اٹھکیلیاں کرتا ہمیں پہنچا

بہت پُر شوق خوشبو یافتہ تھا

تبسم ریز پُروا تھی

کہ جس کے پنکھ پر ٹھہرا ہوا حیرت ادب پارہ

Sunday, 17 January 2021

درج ذیل سطور اس کے نام

 اس کے نام


درج ذیل سطور

سوچ نہ سکتی تھی مجھ سی سر پھری

گھومتا لٹو بھی آخر ٹھہر کر

سر زمینِ لذت مہرو و وفا چھو سکتا ہے

اک تحیر کا سماں تھا جب مجھے

پیکر آزاد نے تجسیم کا منظر دیا

Saturday, 16 January 2021

برف کا آدمی تو بنا لوں مگر

 برف کا آدمی


برف کا آدمی تو بنا لوں مگر

اب وہ حِدت کا موسم پرانا ہُوا

اک زمانہ ہُوا

اب کہیں بازوؤں کی توقع نہیں


فرخندہ شمیم