نوحہ
یہ کس بارود نے بچپن کی پگڈنڈی جلا ڈالی
کہ جن پر بھاگتے ننھے سے پیروں نے نئی صبحوں کو چھونا تھا
کھلے افلاک پر ہنستے ستاروں سے لپٹنا تھا
تمہارا دکھ اکیلا دکھ نہیں ہے
ہوائیں آج بھی نوحہ کناں ہیں
نوحہ
یہ کس بارود نے بچپن کی پگڈنڈی جلا ڈالی
کہ جن پر بھاگتے ننھے سے پیروں نے نئی صبحوں کو چھونا تھا
کھلے افلاک پر ہنستے ستاروں سے لپٹنا تھا
تمہارا دکھ اکیلا دکھ نہیں ہے
ہوائیں آج بھی نوحہ کناں ہیں
بہارو جُھوٹ مت بولو
کسی جبل بلند قامت کی رفعت سے ذرا اونچی
ہوائے یاسمن کے عطر سے ملبوس کو چُھوتی
ستاروں سے کہیں اجمل
ستم ایجاد چشم ناز کا ہیبت تماشا
ہاتھ پر دھر کر
یہ کیسی رُت زمیں پر آن اتری ہے
دریچہ
دریچہ وا کیا ہم نے
تو جھونکا اولیں اٹھکیلیاں کرتا ہمیں پہنچا
بہت پُر شوق خوشبو یافتہ تھا
تبسم ریز پُروا تھی
کہ جس کے پنکھ پر ٹھہرا ہوا حیرت ادب پارہ
اس کے نام
درج ذیل سطور
سوچ نہ سکتی تھی مجھ سی سر پھری
گھومتا لٹو بھی آخر ٹھہر کر
سر زمینِ لذت مہرو و وفا چھو سکتا ہے
اک تحیر کا سماں تھا جب مجھے
پیکر آزاد نے تجسیم کا منظر دیا
برف کا آدمی
برف کا آدمی تو بنا لوں مگر
اب وہ حِدت کا موسم پرانا ہُوا
اک زمانہ ہُوا
اب کہیں بازوؤں کی توقع نہیں
فرخندہ شمیم