Showing posts with label ابرار احمد. Show all posts
Showing posts with label ابرار احمد. Show all posts

Thursday, 29 October 2015

مارنے والا ہے کوئی کہ ہے مرنے والا

مارنے والا ہے کوئی، کہ ہے مرنے والا
اسی مٹی میں ہے آخر کو اترنے والا
جانے کس چیز کو کہتے ہیں مکافات عمل
اور کرتا ہے کوئی، اور ہے بھرنے والا
ساحلِ مرگ ہے منزل سبھی تیراکوں کی
ڈوبنے والا بھی ہے، پار اترنے والا

Tuesday, 14 January 2014

زمیں نہیں یہ مری آسماں نہیں میرا

زمیں نہیں یہ مری، آسماں نہیں میرا
متاعِ خواب بجُز کچھ یہاں نہیں میرا
یہ اونٹ اور کسی کے ہیں، دشت میرا ہے
سوار میرے نہیں، سارباں نہیں میرا
مجھے تمہارے تیقّن سے خوف آتا ہے
کہ اس یقین میں شامل گماں نہیں میرا

پس ہر رنج گماں زخم یقیں دیکھا ہے

پس ہر رنجِ گماں، زخمِ یقیں دیکھا ہے
رائیگاں ہم نے کسی غم کو نہیں دیکھا ہے
کیا تمہیں خوابِ تمنّا کی حقیقت معلوم
تم نے کب اشکِ طلب، داغِ جبیں دیکھا ہے
گھیر لیتا ہے کہیں اک شبِ رفتہ کا ملال
ورنہ کیا تم نے کبھی ہم کو غمِیں دیکھا ہے

ہمارے بیچ اگرچہ رہا نہیں کچھ بھی

ہمارے بیچ اگرچہ رہا نہیں کچھ بھی
مگر یہ دل ہے، ابھی مانتا نہیں کچھ بھی
یہ کیسی دھول سی راہوں میں اڑتی پھرتی ہے
تو اے مسافر جاں! کیا بچا نہیں کچھ بھی؟
بس ایک منظرِ خالی میں اونگھ لیتا ہے
وہ خوش نظر ہے مگر دیکھتا نہیں کچھ بھی

جو پاس ہے اسی غم سے یہ دن بتاؤ میاں

جو پاس ہے اسی غم سے یہ دن بِتاؤ میاں
اب اس کے وعدۂ فردا کو بھول جو میاں
دیار رفتہ کا قصہ کوئی سناؤ میاں
جو خواب سوئے ہوئے ہیں انہیں جگاؤ میاں
یہ آپ ہم خس و خاشاک ہیں ہمارا کیا
ہمیں تو بہنا ہے جس سمت ہو بہاؤ میاں

رسوائی نہیں کچھ بھی تو شہرت بھی نہیں کچھ

رُسوائی نہیں کچھ بھی تو شہرت بھی نہیں کچھ
دیکھو تو یہاں ذلت و عزت بھی نہیں کچھ
کچھ کام ہمارے یہاں ہوتے بھی نہیں ہیں
کچھ یوں ہے کہ ہم کو یہاں عجلت بھی نہیں کچھ
ایسا بھی نہیں کچھ کہ کریں ترکِ تعلق
ورنہ تو یہ طے ہے کہ محبت بھی نہیں کچھ

Wednesday, 4 July 2012

یہ جو ہم سر تیری چوکھٹ سے لگائے ہوئے ہیں

یہ جو ہم سر تیری چوکھٹ سے لگائے ہوئے ہیں
یہی سمجھو کہ زمانے کے ستائے ہوئے ہیں
ہم نے اِس دل کو کہیں اور لگایا ہوا ہے
اور یہ ہاتھ کہیں اور اٹھائے ہوئے ہیں
تجھے دیکھوں تو مجھے یاد یہ کون آتا ہے
تُو نے یہ رنگ بھلا کس کے چرائے ہوئے ہیں