بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا
دل میں اک گوشۂ احساس زیاں ہی رکھنا
پھر اسی رہ سے ملے گی نئے ابلاغ کو سمت
شعر کو درد کا اسلوب بیاں ہی رکھنا
آہ، منظر کو یہ فرفاتی ہوئی بے سفری
ساتھ پگھلے ہوئے رستوں کے نشاں ہی رکھنا
بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا
دل میں اک گوشۂ احساس زیاں ہی رکھنا
پھر اسی رہ سے ملے گی نئے ابلاغ کو سمت
شعر کو درد کا اسلوب بیاں ہی رکھنا
آہ، منظر کو یہ فرفاتی ہوئی بے سفری
ساتھ پگھلے ہوئے رستوں کے نشاں ہی رکھنا
کھِلے ہیں پھول کی صورت تِرے وصال کے دن
تِرے جمال کی راتیں تِرے خیال کے دن
نفس نفس نئی تہہ داریوں میں ذات کی کھوج
عجب ہیں تیرے بدن تِرے خد و خال کے دن
بہ ذوق شعر، بہ جبر معاش یکجا ہیں
مِرے عروج کی راتیں مِرے زوال کے دن
آج پھر شب کا حوالہ تِری جانب ٹھہرے
چاند مضمون بنے شرحِ کواکب ٹھہرے
داد و تحسین کی بولی نہیں تفہیم کا نقد
شرط کچھ تو مِرے بکنے کی مناسب ٹھہرے
نیک گزرے مِری شب صدق بدن سے تیرے
غم نہیں رابطۂ صبح جو کاذب ٹھہرے
سوال بے امان بن کے رہ گئے
جواب امتحان بن کے رہ گئے
حدِ نگاہ تک بلند فلسفے
گھروں کے سائبان بن کے رہ گئے
جو ذہن، آگہی کی کار گاہ تھے
خیال کی دکان بن کے رہ گئے
پنپ رہی ہیں عجب آہٹیں زمانے میں
کہ جیسے اب کوئی دن ہوں قیامت آنے میں
در آ رہی تھی کسی اجنبی نظر کی کرن
شگاف تھے تِری پلکوں کے شامیانے میں
غلام گردشیں اک سمت،اک طرف زینہ
رکھا گیا ہے مجھے قید درمیانے میں
طبعِ حساس مِری خار ہوئی جاتی ہے
بے حسی عشرتِ کردار ہوئی جاتی ہے
یہ خموشی یہ گھلاوٹ یہ بچھڑتے ہوئے رنگ
شام اک درد بھرا پیار ہوئی جاتی ہے
اور باریک کئے جاتا ہوں میں مُوئے قلم
تیز تر سوزنِ اظہار ہوئی جاتی ہے
میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا
جسم میں ڈھل کے مِری روح رواں میں آنا
کھو نہ جانا مِری جاں سرحد جاں تک آ کے
قرب کا پاس لیے بعد کراں میں آنا
میں تِرے حسن کو رعنائی معنی دے دوں
تو کسی شب مِرے انداز بیاں میں آنا
سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا
جب بھی آئینہ دیکھا خود کو دوسرا پایا
ہونٹ پر دِیا رکھنا دل جلوں کی شوخی ہے
ورنہ اس اندھیرے میں کون مسکرا پایا
بول تھے دِوانوں کے جن سے ہوش والوں نے
سوچ کے دھندلکوں میں، اپنا راستہ پایا
زیارت
بہت سے لوگ مجھ میں مرچکے ہیں
کسی کی موت کو واقع ہوئے بارہ برس بیتے
کچھ ایسے ہیں کہ تیس اِک سال ہونے آئے ہیں اب جن کی رحلت کو
ادھر کچھ سانحے تازہ بھی ہیں ہفتوں مہینوں کے
کسی کی حادثاتی موت اچانک بے ضمیری کا نتیجہ تھی