Showing posts with label عبدالاحد ساز. Show all posts
Showing posts with label عبدالاحد ساز. Show all posts

Tuesday, 13 April 2021

بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا

 بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا

دل میں اک گوشۂ احساس زیاں ہی رکھنا

پھر اسی رہ سے ملے گی نئے ابلاغ کو سمت

شعر کو درد کا اسلوب بیاں ہی رکھنا

آہ، منظر کو یہ فرفاتی ہوئی بے سفری

ساتھ پگھلے ہوئے رستوں کے نشاں ہی رکھنا

Monday, 15 March 2021

کھلے ہیں پھول کی صورت ترے وصال کے دن

 کھِلے ہیں پھول کی صورت تِرے وصال کے دن

تِرے جمال کی راتیں تِرے خیال کے دن

نفس نفس نئی تہہ داریوں میں ذات کی کھوج

عجب ہیں تیرے بدن تِرے خد و خال کے دن

بہ ذوق شعر، بہ جبر معاش یکجا ہیں

مِرے عروج کی راتیں مِرے زوال کے دن

Tuesday, 9 March 2021

آج پھر شب کا حوالہ تری جانب ٹھہرے

 آج پھر شب کا حوالہ تِری جانب ٹھہرے 

چاند مضمون بنے شرحِ کواکب ٹھہرے 

داد و تحسین کی بولی نہیں تفہیم کا نقد 

شرط کچھ تو مِرے بکنے کی مناسب ٹھہرے 

نیک گزرے مِری شب صدق بدن سے تیرے 

غم نہیں رابطۂ صبح جو کاذب ٹھہرے 

Friday, 5 March 2021

سوال بے امان بن کے رہ گئے

 سوال بے امان بن کے رہ گئے

جواب امتحان بن کے رہ گئے

حدِ نگاہ تک بلند فلسفے

گھروں کے سائبان بن کے رہ گئے

جو ذہن، آگہی کی کار گاہ تھے

خیال کی دکان بن کے رہ گئے

Thursday, 4 March 2021

پنپ رہی ہیں عجب آہٹیں زمانے میں

 پنپ رہی ہیں عجب آہٹیں زمانے میں

کہ جیسے اب کوئی دن ہوں قیامت آنے میں

در آ رہی تھی کسی اجنبی نظر کی کرن

شگاف تھے تِری پلکوں کے شامیانے میں

غلام گردشیں اک سمت،اک طرف زینہ

رکھا گیا ہے مجھے قید درمیانے میں

Tuesday, 2 March 2021

طبع حساس مری خار ہوئی جاتی ہے

 طبعِ حساس مِری خار ہوئی جاتی ہے

بے حسی عشرتِ کردار ہوئی جاتی ہے

یہ خموشی یہ گھلاوٹ یہ بچھڑتے ہوئے رنگ

شام اک درد بھرا پیار ہوئی جاتی ہے

اور باریک کئے جاتا ہوں میں مُوئے قلم

تیز تر سوزنِ اظہار ہوئی جاتی ہے

Monday, 1 March 2021

میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا

 میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا

جسم میں ڈھل کے مِری روح رواں میں آنا

کھو نہ جانا مِری جاں سرحد جاں تک آ کے

قرب کا پاس لیے بعد کراں میں آنا

میں تِرے حسن کو رعنائی معنی دے دوں

تو کسی شب مِرے انداز بیاں میں آنا

Sunday, 28 February 2021

سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا

 سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا 

جب بھی آئینہ دیکھا خود کو دوسرا پایا 

ہونٹ پر دِیا رکھنا دل جلوں کی شوخی ہے 

ورنہ اس اندھیرے میں کون مسکرا پایا

بول تھے دِوانوں کے جن سے ہوش والوں نے

سوچ کے دھندلکوں میں، اپنا راستہ پایا

Friday, 20 November 2020

بہت سے لوگ مجھ میں مرچکے ہیں

 زیارت


بہت سے لوگ مجھ میں مرچکے ہیں

کسی کی موت کو واقع ہوئے بارہ برس بیتے

کچھ ایسے ہیں کہ تیس اِک سال ہونے آئے ہیں اب جن کی رحلت کو

ادھر کچھ سانحے تازہ بھی ہیں ہفتوں مہینوں کے

کسی کی حادثاتی موت اچانک بے ضمیری کا نتیجہ تھی