مِرے خدایا بروزِ محشر مِرا بھی تجھ سے سوال ہو گا
کبھی تو آ کر ملوں گا تجھ سے، کبھی تو آخر وِصال ہو گا
ہے جس طرح کی گُھٹن یہاں پر کہ بس خدا کا ہی آسرا ہے
میں مر گیا تو یہ حکمِ ربی،۔ میں بچ گیا تو کمال ہو گا
میں چاہتا تھا پلٹ کے دیکھے تو اس کی آنکھیں بھی نم سی دیکھوں
میں سوچتا تھا کہ وقتِ رخصت اسے بھی تھوڑا ملال ہو گا