Showing posts with label فیصل محمود. Show all posts
Showing posts with label فیصل محمود. Show all posts

Wednesday, 26 April 2023

مرے خدایا بروز محشر مرا بھی تجھ سے سوال ہو گا

 مِرے خدایا بروزِ محشر مِرا بھی تجھ سے سوال ہو گا

کبھی تو آ کر ملوں گا تجھ سے، کبھی تو آخر وِصال ہو گا

ہے جس طرح کی گُھٹن یہاں پر کہ بس خدا کا ہی آسرا ہے

میں مر گیا تو یہ حکمِ ربی،۔ میں بچ گیا تو کمال ہو گا

میں چاہتا تھا پلٹ کے دیکھے تو اس کی آنکھیں بھی نم سی دیکھوں

میں سوچتا تھا کہ وقتِ رخصت اسے بھی تھوڑا ملال ہو گا

Monday, 14 November 2022

بے چراغ گھوموں میں راستہ نہیں ملتا

 بے چراغ گھوموں میں راستہ نہیں ملتا

کوئی بھی تسلی کا آسرا نہیں ملتا

گفتگو نہ کر پائے حال ہی سمجھ جائے

آدمی کوئی ایسا دوسرا نہیں ملتا

منزلیں الگ ان کی لوگ بھی جدا مجھ سے

میں بچھڑ گیا جس سے قافلہ نہیں ملتا

Thursday, 4 August 2022

دیکھو ہماری آنکھ میں ویسی چمک نہیں

 دیکھو ہماری آنکھ میں ویسی چمک نہیں

دیکھو ہمارا رنگ بھی ویسا نہیں رہا

آنکھوں سے خوش گمانی کی پٹی اتر چکی

اب صاف دیکھتا ہوں میں اندھا نہیں رہا

اپنے بہت سے یار تھے جانے کہاں گئے

جب سے ہمارے ہاتھ میں پیسہ نہیں رہا

Monday, 21 February 2022

میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا

 میں چاند تاروں کی ضوفشانی کا کیا کروں گا

بغیر تیرے میں زندگانی کا کیا کروں گا 

وہ بے دلی ہے کہ کوئی خواہش نہ کوئی ارماں 

میں سوچتا ہوں کہ اِس جوانی کا کیا کروں گا

میں جانتا ہوں کہ ساتھ تیرا کہاں تلک ہے

مجھے پتہ ہے میں اس کہانی کا کیا کروں گا

Sunday, 2 January 2022

نہ خود سے ہم نکل سکے تو دائروں میں مر گئے

 نہ خود سے ہم نکل سکے تو دائروں میں مر گئے

یہ دیکھ کر ہے دُکھ ہوا کہ آئینوں میں مر گئے

کہیں کسی کی یاد میں چراغ روز و شب جلے

کہیں دِیے پڑے پڑے ہی طاقچوں میں مر گئے

بس ایک لفظ زندگی لکھا تھا پھر مِٹا دیا

اور اس طرح سے خود ہی اپنے کاغذوں میں مر گئے

Friday, 24 December 2021

خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے

 خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے

جو آستیں کے سانپ تھے وہ اب یہاں نہیں رہے

نہ پہلے جیسی سرکشی نہ دل میں کوئی خواہشیں

کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم جواں نہیں رہے

اور ایک دن ہم آپ کی یہ دنیا چھوڑ جائیں گے

خبر ملے گی آپ کو کہ؛ ہم یہاں نہیں رہے

Wednesday, 10 March 2021

یوں بے خبر ہوں حسرت دیدار کھینچ کر

 یوں بے خبر ہوں حسرتِ دیدار کھینچ کر

لایا گیا ہے مجھ کو سرِ دار کھینچ کر

نِکلا ہوں تیرے در سے میں ہر بار غمزدہ

پھر خود کو لے کے آیا میں ہر بار کھینچ کر

بیکار سا پڑا ہوں خود اپنی ہی ذات میں

اپنے ہی گِرد دائرہ بے کار کھینچ کر