یوں بے خبر ہوں حسرتِ دیدار کھینچ کر
لایا گیا ہے مجھ کو سرِ دار کھینچ کر
نِکلا ہوں تیرے در سے میں ہر بار غمزدہ
پھر خود کو لے کے آیا میں ہر بار کھینچ کر
بیکار سا پڑا ہوں خود اپنی ہی ذات میں
اپنے ہی گِرد دائرہ بے کار کھینچ کر
کوئی تو رہ نکالیے، اے ربِ کائنات
میں تھک چکا ہوں کوچہ و بازار کھینچ کر
یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پینا حرام ہے
بادہ کشوں میں لائیے دو چار کھینچ کر
فیصل محمود
No comments:
Post a Comment