کبھی آنسو، کبھی جگنو، کبھی تارے پھینکے
آنکھ سے کہہ دو کہ خوابوں کو کنارے پھینکے
اس نے کاندھے سے مِرے لگ کے کوئی بات کہی
چاند نے رات کو جھیلوں میں شرارے پھینکے
اس نے چُوما تو گلابوں پہ گلال آتا گیا
پھول نے پھول کے ہونٹوں پہ انگارے پھینکے
یار! تجھ کو تو سیہ رات سے ڈر لگتا تھا
تُو نے وحشت میں کہاں چاند، ستارے پھینکے
اس سے کہنا کہ تقبل کی گھڑی ہے، سو چراغ
آنکھ بند کر کے ہواؤں کے سہارے پھینکے
اب دِیا لے کے سرِ شام کسے ڈھونڈتی ہو؟
تم نے غصے میں کہاں خواب ہمارے پھینکے
میں کہ مجذوب کا ملبوسِ دریدہ ہوں امیر
اس کی مرضی وہ مجھے پہنے، اتارے، پھینکے
امیر سخن
No comments:
Post a Comment