جسم کی ترسیل
تمہارے بدلنے سے پہلے میری حالت نہیں بدلی جا سکتی
خود کو سمجھانے کی ہر کوشش
تمہارے ہونے سے ناکام ٹھہری ہے
جب یہ طے ہے کہ تم نے چلے جانا ہے
اور میں نے بھی جانے دینا ہے
جسم کی ترسیل
تمہارے بدلنے سے پہلے میری حالت نہیں بدلی جا سکتی
خود کو سمجھانے کی ہر کوشش
تمہارے ہونے سے ناکام ٹھہری ہے
جب یہ طے ہے کہ تم نے چلے جانا ہے
اور میں نے بھی جانے دینا ہے
خدا کی طرح اکیلا آدمی
زندگی اب کسی بھی لمحے
موت کے اسٹاپ پر اتار سکتی ہے
اس سے پہلے کہ موت کا اسٹاپ
دُھند میں ڈوب جائے
مجھے سب کو الوداع کہہ دینا چاہیے
بے خبروں کا شہر
اس بھرے شہر میں کسے خبر ہو سکتی ہے
کہ شہر میں رہنے والا تنہا اجنبی آدمی
کل رات سے اپنے فلیٹ میں مُردہ پڑا ہے
جبکہ اس کی پالتو بلی دروازہ بند ہونے سے
کمرے کے اندھیرے میں قید ہو کر رہ گئی ہے
لمس سے محروم آدمی
میں جس عورت کے لمس سے محروم ہوں
جانے کیوں اسی کی بانہوں میں پڑا رہتا ہوں
جو عورت میری نہیں ہو سکی
مجھے اس سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے
مگر مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا
میں اور وہ عورت
میں کبھی یہ نہیں سمجھ پایا
وہ عورت میری کیا لگتی ہے
اور میں نے بھی کبھی اسے
کریدنے کی کوشش نہیں کی
بستر میں بھی کبھی
ہم یہ فیصلہ نہیں کر پائے
آدمی کا اعتراف
اگرچہ یہ اعتراف کرنا مشکل ہے
کہ میں بہت اکیلا ہو چکا ہوں
لیکن اس بھیڑ میں
یہ خبر کسے ہو سکتی ہے
میں خود کو
خاموشی کا سفر
اگر کبھی کوئی تم سے یہ کہے
کہ وہ تمہاری خاموشی کو سن سکتا ہے
تو کیا یہ سراسر جھوٹ نہیں ہو گا
تمہاری خاموشی خلا کی وسعتوں جیسی ہے
اسے سمجھنے سے پہلے دریافت کرنا پڑتا ہے
گمنام جوڑوں کے نام
ہمارے جانے کے بعد بچوں نے
ہماری شادی کی تصویر
دیوار سے اُتار دی ہے
تمہارے سارے میگزین
اور میری ساری کتابیں
مذہب اور سائنس کی لڑائی میں
خدا کے ہونے یا نہ ہونے کے مباحثوں میں
نجانے سِگنل بحال ہونے پر ہم دونوں
خدا کا شکر ادا کریں یا سائنس کو سلام کریں
میں نہیں جانتا اب ہمارے مداروں میں
فاصلہ گھٹے گا یا مزید بڑھے گا؟
غیبی آواز
زندگیوں کی بھیڑ میں
زندگی کے لیے
ایک زندہ انسان
آخر کیوں ترستا ہے؟
یہ معمّہ کیا ہے؟
سچ کا آخری لفظ کیا ہے؟
لاپتہ سہیلی کے نام
میں نہیں جانتا
وبا کے ان دنوں میں
وہ کس حال میں ہو گی
بہت دن ہوئے
اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا
میرا بھی نہیں معلوم
کہانی کا جنم
مت پوچھو، یقین رکھو
تم پر کہانی لکھنے کی
نوبت نہیں آئے گی
تم بار بار
بے کار پوچھتی ہو
ہم ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے
دنیا میں دھکیلے گئے ہیں
آپ ہماری لاش ٹھکانے لگا دیں
ہم پھر بھی زندہ رہیں گے
ہمارے بعد ہماری طرح کے لوگ
ہماری بولی بولیں گے
انقلاب کی ناکامی
انقلاب کی ناکامی کی رات
ہم آخری بار مل رہے ہیں
اس کی گود میں سر رکھ کر
ریڈیو پر لیڈر کا سرنڈر سن کر
میں نے جانا
محبوبہ کا بستر
کالا کوٹ
روزِ محشر جب خدا
خدا نہیں رہے گا
سب کو جمع کر کے
جب وہ برہنہ کرے گا
اور ہماری ذاتی زندگی کو
جب سرِ عام لِیک کرے گا
آخری ریہرسل کا سکرپٹ
آخری شام کا رنگ کچھ مدھم سا ہے
میرے گٹار میں جان نہیں آ رہی
میں اب وہی پرانا نغمہ
اور زیادہ دیر تک نہیں گنگنا سکتا
جس میں گالیوں کا رس نچوڑا گیا ہے
میں اپنی ناکامیوں اور محرومیوں کو
معذرت نامہ
میں دوبارہ نہیں آؤں گا
مجھے تمہارا جسم
مزید نہیں چاہئے
مجھے افسوس سے
یہ کہنا پڑ رہا ہے
زندگی اب کسی بھی لمحے
موت کے اسٹاپ پر اتار سکتی ہے
اس سے پہلے کہ موت کا اسٹاپ
دھند میں ڈوب جائے
مجھے سب کو الوداع کہہ دینا چاہئے
صفی سرحدی
مسیحا کی خواہش
میں چاہتا ہوں
جب میری روح قبض کرنے
موت کا فرشتہ آئے
تو وہ میرے سامنے
ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جائے
رزق
رات اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی میں
ایک چیونٹی رزق ڈھونڈ رہی تھی
مگر میں فٹ پاتھ پر بیٹھا ہوا
بھیک مانگ رہا تھا
صفی سرحدی