بے خبروں کا شہر
اس بھرے شہر میں کسے خبر ہو سکتی ہے
کہ شہر میں رہنے والا تنہا اجنبی آدمی
کل رات سے اپنے فلیٹ میں مُردہ پڑا ہے
جبکہ اس کی پالتو بلی دروازہ بند ہونے سے
کمرے کے اندھیرے میں قید ہو کر رہ گئی ہے
کیا بدبُو پھیلنے تک وہ زندہ رہ پائے گی
کل رات اس شہر میں
شک کی بنیاد پر عورت قتل کر دی گئی
اور اس کی لاش
زیر تعمیر مسجد کے احاطے میں دفنا دی گئی
آج صبح اخبار میں اسی عورت کی
آشنا کے ساتھ فرار کی خبر سب نے پڑھ لی ہو گی
کوئی جاننے کی کوشش نہیں کرے گا کہ
کل شام ایک نوجوان لڑکی
شہر میں داخل ہونے والی ٹرین کے آگے کیوں لیٹ گئی تھی
کل دوپہر جسم فروشی کے اڈے پر
جس لڑکے کا اپنی بیوہ ماں سے سامنا ہوا تھا
اس نے خود کو نامَرد بنا لیا جبکہ ماں نے نبض کاٹ لی ہے
اور کل صبح جس مزدور کو تیز رفتار گاڑی نے کچلا تھا
میونسپلٹی والوں نے اسے ناقابل شناخت قرار دے کر
شہر سے باہر کچرے کے علاقے میں دفنا دیا ہے
مگر اس بھرے شہر میں کسے خبر ہو سکتی ہے
صفی سرحدی
No comments:
Post a Comment