Sunday, 3 July 2022

خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی

 خامشی سے ہوئی فُغاں سے ہوئی

ابتداء رنج کی کہاں سے ہوئی

کوئی طائر ادھر نہیں آتا

کیسی تقصیر اس مکاں سے ہوئی

موسموں پر یقین کیوں چھوڑا

بد گمانی تو سائباں سے ہوئی

بے نہایت سمندروں کا سفر

گفتگو صرف بادباں سے ہوئی

یہ جو الجھی ہوئی کہانی ہے

معتبر حرف رائیگاں سے ہوئی

دل کی آبادیوں کو پوچھو ہو

روشنی برق بے اماں سے ہوئی

تشنگی بے بسی لبِ دریا

میری پہچان ہی وہاں سے ہوئی

اتنی اجلی نہ تھی یہ راہگزر

نقش پائے بلا کشاں سے ہوئی


ادا جعفری

No comments:

Post a Comment