Sunday, 3 July 2022

فریب بیش و کم نے مار ڈالا

فریب بیش و کم نے مار ڈالا

اُمیدوں کے بھرم نے مار ڈالا

زمانے کے سِتم تو سہ ہی لیتے

رفیقوں کے کرم نے مار ڈالا

طبیعت کو بڑی رغبت تھی غم سے

غرض یہ ہے کہ غم نے مار ڈالا

خِرد کا مشورہ تسلیم کر کے

دلِ ناداں کو ہم نے مار ڈالا

بہت پُختہ تھا عُذرِ زیست لیکن

خیالاتِ عدم نے مار ڈالا


عبدالحمید عدم 

No comments:

Post a Comment