لطف اور پیار کی کماں ہو جا
مارنا ہے تو مہرباں ہو جا
سر وحشی! خود ان سے ٹکرا کر
پتھروں کا مزاج داں ہو جا
حرفِ مطلب! کبھی تو تُو خود بھی
لب پہ آتے ہی داستاں ہو جا
ٹوٹی پھوٹی زباں کے لہجے سے
بے تکلف کبھی بیاں ہو جا
تھک کے اے عمرِ جاوداں! اک دن
میری کُٹیا میں مہماں ہو جا
جب تھکاوٹ تیری، اتر جائے
پھر جدھر جی کرے، رواں ہو جا
تُو بھی شاید بشر گزیدہ ہے
مجھ سے مل، اور شادماں ہو جا
یہ مسرت تُو، لوٹ لے اے دل
موجزن ہو کے، بے کراں ہو جا
مستقل فائدے کی، دُھن ہے اگر
صِدقِ نیت سے رائیگاں ہو جا
عمر کیا، عمر کی جسارت کیا
جب طبیعت کرے، جواں ہو جا
چشمِ ساقی کا حکم یہ ہے عدم
مطلقاً، منکرِ خِزاں ہو جا
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment