Showing posts with label راشد امام. Show all posts
Showing posts with label راشد امام. Show all posts

Friday, 19 July 2024

خشک ٹہنی پہ ہری چھال نہیں آئے گی

 خشک ٹہنی پہ ہری چھال نہیں آئے گی

تیرے منصور پہ اب کھال نہیں آئے گی

تیرا ماتھا م<رے ہونٹوں کو نہیں پہنچے گا

میرے ماتھے پہ تری شال نہیں آئے گی

کیا ہوئیں عورتیں جو گریہ گزار آتی تھیں

اب کوئی کھولے ہوئے بال نہیں آئے گی

Thursday, 21 September 2023

لفظ جمال پر سیاہی پھیل رہی ہے

 انا حب الجمال 

دیواروں پر 

خون سے نام لکھنے

اور دل بنانے کی روایت 

ان دنوں کی بات ہے 

جب دو مختلف زبانوں کے انسانوں نے

آپس میں محبت کی تھی 

Tuesday, 8 August 2023

محبت اپنا اظہار کر لیتی ہے

 محبت اپنا اظہار کر لیتی ہے

سُولی پہ چڑھ کے 

کھال کھینچ کر  

پہاڑ سے کُود کر 

یا سمندر میں ڈُوب کر 

محبت اپنا  اظہار کر لیتی ہے 

Friday, 28 April 2023

اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں

 اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں

اے خدا! رحم، شب شگون نہیں

ہم پتنگوں کا اپنا رونا ہے

روشنی ہے مگر سکون نہیں

سانس کیا موت ہی نہیں جن کو

خون ہی کیا جسے جنون نہیں

Monday, 3 January 2022

لوح محفوظ سے سرکار کو کلمے بھیجے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


لوحِ محفوظ سے سرکارﷺ کو کلمے بھیجے

آپؐ کے پاؤں کو جبریلؑ خوشی سے چومے

زرد ٹیلوں کو ہو خوشرنگ قمیضوں کی طلب

رنج سہتے ہوئے صحرا میں خوشی آ ٹھہرے

اور پھر ربﷻ نے کہا؛ اقراء باسمِ ربی

اور آقاؐ نے فصاحت کے دریچے کھولے

Wednesday, 30 June 2021

ان خلاؤں سے تنہائی تک کا سفر ایسا آسیب ہے

 ایش ٹرے میں رکھے ہونٹ


ان خلاؤں سے تنہائی تک کا سفر

ایسا آسیب ہے

جو بدن کے تنے پر امر بیل جیسے لپیٹا گیا

ہر طرف لوگ ہیں

پر اکیلے اکیلے

Tuesday, 29 June 2021

وقت سے یوں کریں گے کوئی ہاتھ ہم

 وقت سے یوں کریں گے کوئی ہاتھ ہم

اک الارم پہ رکھ لیں گے دن رات ہم

اک ہوا تھی جو پورا شجر لے اُڑی

روز کرتے تھے تر، جس کے پھل پات ہم

چھُپ کے بیٹھے ہوئے ہیں عقب میں تِرے

اپنی جانب لگائے ہوئے گھات ہم

Monday, 28 June 2021

گھما پھرا کے ہماری نظر وہیں آتی

 گھما پھرا کے ہماری نظر وہیں آتی

ہر آسمان گزرنے پہ پھر زمیں آتی

نماز نیند سے بہتر ہے پر مِرے مالک

تِرے وہ لوگ جنہیں نیند ہی نہیں آتی؟

ہماری پُشت پہ لادے ہوئے گُناہوں سے

عجب تناؤ میں تیری طرف جبیں آتی

Friday, 27 November 2020

اس اطلسی قبا کے ہی تسمے کا درد ہے

 اس اطلسی قبا کے ہی تسمے کا درد ہے

وہ حسنِ بے بہا تھا، مرا رنگ 'زرد' ہے

گاچی پڑی اداس ہے تختی کے آس پاس

پوچھے، سکھائے کون کہ ماحول سرد ہے

دریا میں بار بار، ڈبوتا ہوں اپنا منہ

تجھ روشنی کے لوبھ میں چہرے پہ گرد ہے

Sunday, 22 November 2020

یہاں سے دور کہیں اور بس گیا تھا میں

 یہاں سے دور کہیں اور بس گیا تھا میں

جہاں تلک تھی مری دسترس گیا تھا میں

ہزار سال کی اک نیند لے کے جاگا ہوں

کہیں غیاب کے لمحے میں پھنس گیا تھا میں

ضعیف طاق اچانک گرا تو سال کھلے

مجھے لگا تھا کہ پچھلے برس گیا تھا میں