خشک ٹہنی پہ ہری چھال نہیں آئے گی
تیرے منصور پہ اب کھال نہیں آئے گی
تیرا ماتھا م<رے ہونٹوں کو نہیں پہنچے گا
میرے ماتھے پہ تری شال نہیں آئے گی
کیا ہوئیں عورتیں جو گریہ گزار آتی تھیں
اب کوئی کھولے ہوئے بال نہیں آئے گی
خشک ٹہنی پہ ہری چھال نہیں آئے گی
تیرے منصور پہ اب کھال نہیں آئے گی
تیرا ماتھا م<رے ہونٹوں کو نہیں پہنچے گا
میرے ماتھے پہ تری شال نہیں آئے گی
کیا ہوئیں عورتیں جو گریہ گزار آتی تھیں
اب کوئی کھولے ہوئے بال نہیں آئے گی
انا حب الجمال
دیواروں پر
خون سے نام لکھنے
اور دل بنانے کی روایت
ان دنوں کی بات ہے
جب دو مختلف زبانوں کے انسانوں نے
آپس میں محبت کی تھی
محبت اپنا اظہار کر لیتی ہے
سُولی پہ چڑھ کے
کھال کھینچ کر
پہاڑ سے کُود کر
یا سمندر میں ڈُوب کر
محبت اپنا اظہار کر لیتی ہے
اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں
اے خدا! رحم، شب شگون نہیں
ہم پتنگوں کا اپنا رونا ہے
روشنی ہے مگر سکون نہیں
سانس کیا موت ہی نہیں جن کو
خون ہی کیا جسے جنون نہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لوحِ محفوظ سے سرکارﷺ کو کلمے بھیجے
آپؐ کے پاؤں کو جبریلؑ خوشی سے چومے
زرد ٹیلوں کو ہو خوشرنگ قمیضوں کی طلب
رنج سہتے ہوئے صحرا میں خوشی آ ٹھہرے
اور پھر ربﷻ نے کہا؛ اقراء باسمِ ربی
اور آقاؐ نے فصاحت کے دریچے کھولے
ایش ٹرے میں رکھے ہونٹ
ان خلاؤں سے تنہائی تک کا سفر
ایسا آسیب ہے
جو بدن کے تنے پر امر بیل جیسے لپیٹا گیا
ہر طرف لوگ ہیں
پر اکیلے اکیلے
وقت سے یوں کریں گے کوئی ہاتھ ہم
اک الارم پہ رکھ لیں گے دن رات ہم
اک ہوا تھی جو پورا شجر لے اُڑی
روز کرتے تھے تر، جس کے پھل پات ہم
چھُپ کے بیٹھے ہوئے ہیں عقب میں تِرے
اپنی جانب لگائے ہوئے گھات ہم
گھما پھرا کے ہماری نظر وہیں آتی
ہر آسمان گزرنے پہ پھر زمیں آتی
نماز نیند سے بہتر ہے پر مِرے مالک
تِرے وہ لوگ جنہیں نیند ہی نہیں آتی؟
ہماری پُشت پہ لادے ہوئے گُناہوں سے
عجب تناؤ میں تیری طرف جبیں آتی
اس اطلسی قبا کے ہی تسمے کا درد ہے
وہ حسنِ بے بہا تھا، مرا رنگ 'زرد' ہے
گاچی پڑی اداس ہے تختی کے آس پاس
پوچھے، سکھائے کون کہ ماحول سرد ہے
دریا میں بار بار، ڈبوتا ہوں اپنا منہ
تجھ روشنی کے لوبھ میں چہرے پہ گرد ہے
یہاں سے دور کہیں اور بس گیا تھا میں
جہاں تلک تھی مری دسترس گیا تھا میں
ہزار سال کی اک نیند لے کے جاگا ہوں
کہیں غیاب کے لمحے میں پھنس گیا تھا میں
ضعیف طاق اچانک گرا تو سال کھلے
مجھے لگا تھا کہ پچھلے برس گیا تھا میں