عارفانہ کلام نعتیہ کلام
لوحِ محفوظ سے سرکارﷺ کو کلمے بھیجے
آپؐ کے پاؤں کو جبریلؑ خوشی سے چومے
زرد ٹیلوں کو ہو خوشرنگ قمیضوں کی طلب
رنج سہتے ہوئے صحرا میں خوشی آ ٹھہرے
اور پھر ربﷻ نے کہا؛ اقراء باسمِ ربی
اور آقاؐ نے فصاحت کے دریچے کھولے
میں بھی چاکر ہوں اسی در کا وہیں ہوتا ہوں
ورد کرتے ہوئے دیکھے ہیں فرشتے میں نے
دھڑکنیں اسمﷺ الاپیں تو ملے صبر و قرار
فرقتِ شاہﷺ میں جب دل سے لہو آ ٹپکے
یوں ہوا نور برسنے لگا افلاک سے اور
بوڑھے اونٹوں نے بھی سرسبز کجاوے پہنے
نعت کہتے ہوئے راشد میں صدا سنتا ہوں
امتی خیر ہو تیری کہ تِرے کیا کہنے
راشد امام
No comments:
Post a Comment