گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا
آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا
اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے
جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا
مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب
میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا