Showing posts with label شاہنواز انصاری. Show all posts
Showing posts with label شاہنواز انصاری. Show all posts

Tuesday, 12 May 2026

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

 گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا

اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے

جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا

مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب

میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا

Friday, 25 July 2025

اپنے جیسے دیوانوں کی تھوڑی تو امداد کروں

 اپنے جیسے دیوانوں کی تھوڑی تو امداد کروں

سوچ رہا ہوں ہشیاری سے پاگل پن ایجاد کروں

ضرب لگا کر ایسا چیخوں سناٹے بھی ڈر جائیں

لیکن پہلے آوازیں تو پنجرے سے آزاد کروں

پتھر کھانے سے اچھا ہے پتھر کو ہی توڑا جائے

عشق اجازت دے تو خود کو مجنوں سے فرہاد کروں

Monday, 21 July 2025

چاہتا ہوں کہ تیرا ہجر مصیبت نہ لگے

چاہتا ہوں کہ تیرا ہجر مصیبت نہ لگے

اب کوئی زخم ترے غم کی بدولت نہ لگے

اس کی یادوں کا سفر ختم کروں روئے بغیر

غیر ممکن ہے کہ اس کام میں حکمت نہ لگے

ظرف ٹوٹے ہوئے کشکول سے گر سکتا ہے

ایسی امداد سے بچنا جو سخاوت نہ لگے

Saturday, 19 July 2025

اداس دھوپ سے رشتہ بحال کرنے میں

 اداس دھوپ سے رشتہ بحال کرنے میں

درخت سوکھ گئے یہ کمال کرنے میں

ہر ایک بار غموں کا مزاج بدلا تھا

خوشی سے آنکھ ملا کر ملال کرنے میں

ہمارا دل بھی رہا ذمے دار مان لیا

تمہیں کیوں وقت لگا استعمال کرنے میں