Showing posts with label اختر انصاری. Show all posts
Showing posts with label اختر انصاری. Show all posts

Saturday, 18 February 2023

محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے

 محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے

جوانی اور اتنی دکھ بھری کیسی قیامت ہے

وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا

نجانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے

لب دریا مجھے لہروں سے یوں ہی چہل کرنے دو

کہ اب دل کو اسی اک شغل بے معنی میں راحت ہے

Tuesday, 18 May 2021

اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے

 اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے

اپنے رفُو کو گِننے والو! کتنے گریباں چاک ہوئے

دیوانوں کو کون بتائے آج کی رسم اور آج کی بات

اس نے انہیں کی سمت نظر کی عشق میں جو بے باک ہوئے

شعبدۂ یک طرزِ کرم ہے کیسی سزا اور کیسی جزا؟

موجِ تبسم جب لہرائی تر دامن بھی پاک ہوئے

Monday, 17 May 2021

محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں

 محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں

رہا کرتی ہے شادابی خزاں کے بھی مہینوں میں

ضیائے مہر آنکھوں میں ہے توبہ مہ جبینوں کے

کہ فطرت نے بھرا ہے حُسن خود اپنا حسینوں میں

ہوائے تُند ہے، گرداب ہے، پُر شور دھارا ہے

لیے جاتے ہیں ذوقِ عافیت سی شے سفینوں میں

Tuesday, 18 August 2020

خزاں میں آگ لگاؤ بہار کے دن ہیں

خزاں میں آگ لگاؤ، بہار کے دن ہیں 
نئے شگوفے کھلاؤ، بہار کے دن ہیں 
الٹ دو تختہ خزاں کی تباہ کاری کا 
بساطِ عیش بچھاؤ، بہار کے دن ہیں 
عذار گل کی دہک سے جلا کے کانٹوں کو 
لگی دلوں کی بجھاؤ، بہار کے دن ہیں 

ہر ایک پھول کے دامن میں خار کیسا ہے

ہر ایک پھول کے دامن میں خار کیسا ہے 
بتائے کون؟ کہ رنگِ بہار کیسا ہے ؟
وہ سامنے تھے تو دل کو سکوں نہ تھا حاصل 
چلے گئے ہیں تو اب بے قرار کیسا ہے
یقین تھا کہ نہ آۓ گا مجھ سے ملنے کوئی 
تو پھر یہ دل کو مِرے انتظار کیسا ہے 

Monday, 17 August 2020

مطرب دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں

مطربِ دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں
وہ تخیل کی اڑانیں کیا ہوئیں؟
کیا ہوۓ وہ ترچھی نظروں کے خدنگ
ابروؤں کی وہ کمانیں کیا ہوئیں؟
وہ ادائیں، جن پر ہوتی تھیں نثار
چاہنے والوں کی وہ جانیں کیا ہوئیں

اف یہ بد مست مے کدہ میرا

سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا
اف یہ بد مست مے کدہ میرا
نارسائی پہ ناز ہے جس کو
ہائے وہ شوقِ نا رسا میرا
عشق کو منہ دکھاؤں گا کیونکر
ہجر میں رنگ اڑ گیا میرا

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں
ایک بگڑی ہوئی تصویرِ جوانی ہوں میں
آگ بن کر جو کبھی دل میں نہاں رہتا تھا
آج دنیا میں اسی غم کی نشانی ہوں میں
ہائے، کیا قہر ہے مرحوم جوانی کی یاد
دل سے کہتی ہے کہ خنجر کی روانی ہوں میں

Tuesday, 20 September 2016

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں
منہ سے کہتے ہوۓ یہ بات مگر ڈرتے ہیں
ایک تصویرِ محبت ہے جوانی گویا
جس میں رنگوں کے عوض خونِ جگر بھرتے ہیں
عشرتِ رفتہ نے جا کر نہ کِیا یاد ہمیں
عشرتِ رفتہ کو ہم یاد کِیا کرتے ہیں

Wednesday, 28 October 2015

دکھ محبت میں وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

دکھ محبت میں وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
اس قدر صدمے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے
یوں تو وہ ایک اچٹتی سی نظر تھی، لیکن
زخم اس طرح کے آئے ہیں کہ جی جانتا ہے
اب تو خاموش ہیں لیکن انہیں آنکھوں نے کبھی
ایسے طوفان ا ٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

دل عجب انداز سے لہرا گیا

پھول سونگھے، جانے کیا یاد آ گیا
دل عجب انداز سے لہرا گیا
اس سے پوچھے کوئی چاہت کے مزے
جس نے چاہا، اور جو چاہا گیا
ایک لمحہ بن کے عیشِ جاوداں
میری ساری زندگی پر چھا گیا

Tuesday, 27 October 2015

کوئی باتوں باتوں میں باوفا جو کہہ گیا

کوئی باتوں باتوں میں ’باوفا‘ جو کہہ گیا
میرا زخم خوردہ دل دھک سے ہو کے رہ گیا
ضبط اس لیے کیا تھا کہ ’راز‘ ہو نہ فاش
اب میں اس کو کیا کروں، دل میں درد رہ گیا
میری بے زبانیاں کام آ گئیں کہ میں
غم کی ساری داستان اک نظر میں کہہ گیا

غم زدہ ہیں مبتلائے درد ہیں ناشاد ہیں

غم زدہ ہیں مبتلائے درد ہیں ناشاد ہیں
ہم کسی افسانۂ غم ناک کے افراد ہیں
گردشِ افلاک کے ہاتھوں بہت برباد ہیں
ہم لبِ ایام پر اک دکھ بھری فریاد ہیں
زندگی میں سینکڑوں غم ہیں ہمارے واسطے
سینۂ پُر خوں ہے دنیا، ہم دلِ ناشاد ہیں

آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا

آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا
سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا
دل کا خوں آنکھوں میں کھچ آیا، چلو اچھا ہوا
میری آنکھوں کو مِرا احوال کہنا آ گیا
سہل ہو جائے مشکل ضبطِ سوزِ و ساز کی
خونِ دل کو آنکھ سے روز بہنا آ گیا