محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے
جوانی اور اتنی دکھ بھری کیسی قیامت ہے
وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا
نجانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے
لب دریا مجھے لہروں سے یوں ہی چہل کرنے دو
کہ اب دل کو اسی اک شغل بے معنی میں راحت ہے
محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے
جوانی اور اتنی دکھ بھری کیسی قیامت ہے
وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا
نجانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے
لب دریا مجھے لہروں سے یوں ہی چہل کرنے دو
کہ اب دل کو اسی اک شغل بے معنی میں راحت ہے
اپنی بہار پہ ہنسنے والو کتنے چمن خاشاک ہوئے
اپنے رفُو کو گِننے والو! کتنے گریباں چاک ہوئے
دیوانوں کو کون بتائے آج کی رسم اور آج کی بات
اس نے انہیں کی سمت نظر کی عشق میں جو بے باک ہوئے
شعبدۂ یک طرزِ کرم ہے کیسی سزا اور کیسی جزا؟
موجِ تبسم جب لہرائی تر دامن بھی پاک ہوئے
محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں
رہا کرتی ہے شادابی خزاں کے بھی مہینوں میں
ضیائے مہر آنکھوں میں ہے توبہ مہ جبینوں کے
کہ فطرت نے بھرا ہے حُسن خود اپنا حسینوں میں
ہوائے تُند ہے، گرداب ہے، پُر شور دھارا ہے
لیے جاتے ہیں ذوقِ عافیت سی شے سفینوں میں