ہر ایک پھول کے دامن میں خار کیسا ہے
بتائے کون؟ کہ رنگِ بہار کیسا ہے ؟
وہ سامنے تھے تو دل کو سکوں نہ تھا حاصل
چلے گئے ہیں تو اب بے قرار کیسا ہے
یقین تھا کہ نہ آۓ گا مجھ سے ملنے کوئی
اگر کسی نے تمہارا بھی دل نہیں توڑا
تو آنسوؤں کا رواں آبشار کیسا ہے؟
مجھے خبر ہے کہ ہے بیوفا بھی ظالم بھی
مگر، وفا کا تِری اعتبار کیسا ہے ؟
تِرے مکان کی دیوار پر جو ہے چسپاں
تلاش کس کی ہے، یہ اشتہار کیسا ہے؟
یہ کس کے خون سے ہے دامنِ چمن رنگیں
یہ سرخ پھول، سر شاخ دار کیسا ہے
اب ان کی برق نظر کو دکھاؤ آئینہ
وہ پوچھتے ہیں دلِ بے قرار کیسا ہے
مِری خبر تو کسی کو نہیں مگر اختر
زمانہ اپنے لیے ہوشیار کیسا ہے
اختر انصاری
No comments:
Post a Comment