جب بھی کسی سے کہنے ہم اپنا غم گئے ہیں
ہونٹوں🗢 تک آتے آتے الفاظ جم گئے ہیں
ہم تک وہ آ سکے ہیں ان تک نہ ہم گئے ہیں
دن رات کیسے کیسے دے دے کے دم گئے ہیں
معیارِ دلنوازی ہیں پر جب سے ہم گئے ہیں
دشواریاں نہ پوچھو ہم سے سے رہِ وفا کی
دو چار ہی قدم👣 ہم، ثابت قدم گئے ہیں
راہِ طلب میں آخر کس کس سے راہ پوچھیں
کیا جانئے کہاں تک یہ پیچ و خم گئے ہیں
ہم ان بلندیوں تک دو گھونٹ پی کے پہنچے
اک عمر میں جہاں تک شیخِ حرم گئے ہیں
اتنی سی بات ہی کے ہیں شہر شہر چرچے
حالانکہ اس گلی میں ہم کم سے کم گئے ہیں
ادیب سہارنپوری
No comments:
Post a Comment