Showing posts with label حنیف فوق. Show all posts
Showing posts with label حنیف فوق. Show all posts

Thursday, 16 May 2024

چشم پر نم ابھی مرہون اثر ہو نہ سکی

 چشمِ پُر نم ابھی مرہونِ اثر ہو نہ سکی

زندگی خاک نشینوں کی بسر ہو نہ سکی

مےکدے کی وہی مانوس فضا اور دلِ زار

ایک بھی رات با اندازِ دِگر ہو نہ سکی

غمِ جاناں، غمِ دوراں کی گزرگاہوں سے

گزرے کچھ ایسے کہ خود اپنی خبر ہو نہ سکی

Monday, 13 May 2024

جسم و جاں کس غم کا گہوارہ بنے

 جسم و جاں کس غم کا گہوارہ بنے

آگ سے نکلے تو انگارہ بنے

شام کی بھیگی ہوئی پلکوں میں پھر

کوئی آنسو آئے اور تارا بنے

لوح دل پہ نقش اب کوئی نہیں

وقت ہے آ جاؤ شہ پارا بنے

Sunday, 12 May 2024

رات ڈھلتے ہی سفیران قمر آتے ہیں

 رات ڈھلتے ہی سفیرانِ قمر آتے ہیں

دل کے آئینے میں سو عکس اُتر آتے ہیں

سیل مہتاب سے جب نقش اُبھر آتے ہیں

اوس گِرتی ہے تو پیغام شرر آتے ہیں

ساعت دید کا گُلزار ہو یا سایۂ دار

ایسے کتنے ہی مقاماتِ سفر آتے ہیں

Wednesday, 22 September 2021

رات کے در پہ یہ دستک یہ مسلسل دستک

 رات کے در پہ یہ دستک یہ مسلسل دستک

آمدِ صبحِ فروزاں کا پتا دیتی ہے

پھونک ڈالے گی یہ اک روز قبائے صیاد

آتشِ گل کو صبا اور ہوا دیتی ہے

تیرگی زادوں سے کب نور کا سیلاب تھمے

فیصلہ وقت کا تاریخ سنا دیتی ہے