چشمِ پُر نم ابھی مرہونِ اثر ہو نہ سکی
زندگی خاک نشینوں کی بسر ہو نہ سکی
مےکدے کی وہی مانوس فضا اور دلِ زار
ایک بھی رات با اندازِ دِگر ہو نہ سکی
غمِ جاناں، غمِ دوراں کی گزرگاہوں سے
گزرے کچھ ایسے کہ خود اپنی خبر ہو نہ سکی
چشمِ پُر نم ابھی مرہونِ اثر ہو نہ سکی
زندگی خاک نشینوں کی بسر ہو نہ سکی
مےکدے کی وہی مانوس فضا اور دلِ زار
ایک بھی رات با اندازِ دِگر ہو نہ سکی
غمِ جاناں، غمِ دوراں کی گزرگاہوں سے
گزرے کچھ ایسے کہ خود اپنی خبر ہو نہ سکی
جسم و جاں کس غم کا گہوارہ بنے
آگ سے نکلے تو انگارہ بنے
شام کی بھیگی ہوئی پلکوں میں پھر
کوئی آنسو آئے اور تارا بنے
لوح دل پہ نقش اب کوئی نہیں
وقت ہے آ جاؤ شہ پارا بنے
رات ڈھلتے ہی سفیرانِ قمر آتے ہیں
دل کے آئینے میں سو عکس اُتر آتے ہیں
سیل مہتاب سے جب نقش اُبھر آتے ہیں
اوس گِرتی ہے تو پیغام شرر آتے ہیں
ساعت دید کا گُلزار ہو یا سایۂ دار
ایسے کتنے ہی مقاماتِ سفر آتے ہیں
رات کے در پہ یہ دستک یہ مسلسل دستک
آمدِ صبحِ فروزاں کا پتا دیتی ہے
پھونک ڈالے گی یہ اک روز قبائے صیاد
آتشِ گل کو صبا اور ہوا دیتی ہے
تیرگی زادوں سے کب نور کا سیلاب تھمے
فیصلہ وقت کا تاریخ سنا دیتی ہے