Showing posts with label احمد خیال. Show all posts
Showing posts with label احمد خیال. Show all posts

Thursday, 20 January 2022

بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں

 بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں

وحشت کو جا کے دشت میں مارا کروں گا میں

ویسے تو یہ زمین مِرے کام کی نہیں

لیکن اب اس کے ساتھ گزارا کروں گا میں

شاید کہ اس سے مردہ سمندر میں جان آئے

صحرا میں کشتیوں کو اتارا کروں گا میں

Wednesday, 19 January 2022

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا

 دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا

یہ کس جگہ پہ میں تمہاری جستجو میں آ گیا

وہ سرو قامت ہو گیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے

جانے کہاں سے زور سا اس کی نمو میں آ گیا

بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کے پلٹا ہے

اور نور کا سیلاب سا اس آب جو میں آ گیا

Tuesday, 18 January 2022

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے

 قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے

یہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے

سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودے

وگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے

سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھا

شُتر سُوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے

Thursday, 29 July 2021

اے تعصب زدہ دنیا ترے کردار پہ خاک

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 اے تعصب زدہ دنیا تِرے کردار پہ خاک

بغض کی گرد میں لپٹے ہوئے معیار پہ خاک

ایک عرصے سے مِری ذات میں آباد ہے دشت

ایک عرصے سے پڑی ہے در و دیوار پہ خاک

وہ غزالوں سے ابھی سیکھ کے رم لوٹا ہے

بال ہیں دھول میں گم اور لب و رخسار پہ خاک

Sunday, 23 May 2021

مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

مِرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

سو لگتا ہے کہانی ختم ہوتی جا رہی ہے

اسے چھُو کر لبوں سے پھول جھڑنے لگ گئے ہیں

مِری آتش فشانی ختم ہوتی جا رہی ہے

سُلگتے دشت میں اب دھوپ سہنا پڑ گئی ہے

تمہاری سائبانی ختم ہوتی جا رہی ہے

Saturday, 22 May 2021

کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا

 کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا

جلتے ہوئے دیوں کی سہیلی ہوئی ہوا

شدت سے ہانپ ہانپ کے مردہ سی ہو چکی

وحشت زدہ چراغ سے کھیلی ہوئی ہوا

پلٹی تو داستان بھی پلٹے گی ایک دم

وادی کی بند سمت دھکیلی ہوئی ہوا

Friday, 21 May 2021

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

 دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے

میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک

خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے

عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے

یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے

Thursday, 20 May 2021

یہ تعلق تری پہچان بنا سکتا تھا

 یہ تعلق تِری پہچان بنا سکتا تھا

تُو مِرے ساتھ بہت نام کما سکتا تھا

یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی

اس کی آواز سے میں دیپ جلا سکتا تھا

میں نے بازار میں اک بار ضیا بانٹی تھی

میرا کردار مِرے ہاتھ کٹا سکتا تھا

Wednesday, 19 May 2021

دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے

 دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے

اس پوری کائنات میں کتنا سراب ہے

روزانہ اک فقیر لگاتا ہے یہ صدا

دنیا سراب ہے ارے دنیا سراب ہے

موسیٰ نے ایک خواب حقیقت بنا دیا

ویسے تو گہرے پانی میں رستہ سراب ہے

Tuesday, 18 May 2021

جو ترے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے

 جو تِرے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے

ہر مصیبت میں روانی سے نکل سکتا ہے

تُو جو یہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے

تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے

شہرِ انکار کی پُر پیچ سی ان گلیوں سے

تُو فقط عجزِ بیانی سے نکل سکتا ہے

غبار ابر بن گیا کمال کر دیا گیا

 غُبار ابر بن گیا، کمال کر دیا گیا

ہری بھری رُتوں کو میری شال کر دیا گیا

قدم قدم پہ کاسہ لے کے زندگی تھی راہ میں

سو جو بھی اپنے پاس تھا نکال کر دیا گیا

میں زخم زخم ہو گیا، لہو وفا کو رو گیا

لڑائی چِھڑ گئی تو مجھ کو ڈھال کر دیا گیا

Friday, 23 April 2021

کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

 کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں

پھر تعلق کے بکھرنے کی شکایت کیسی

جب اسے کانچ کے دھاگوں میں پرونا ہے ہمیں

انگلیوں کی سبھی پوروں سے لہو رستا ہے

اپنے دامن کے یہ کس داغ کو دھونا ہے ہمیں