بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں
وحشت کو جا کے دشت میں مارا کروں گا میں
ویسے تو یہ زمین مِرے کام کی نہیں
لیکن اب اس کے ساتھ گزارا کروں گا میں
شاید کہ اس سے مردہ سمندر میں جان آئے
صحرا میں کشتیوں کو اتارا کروں گا میں
بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں
وحشت کو جا کے دشت میں مارا کروں گا میں
ویسے تو یہ زمین مِرے کام کی نہیں
لیکن اب اس کے ساتھ گزارا کروں گا میں
شاید کہ اس سے مردہ سمندر میں جان آئے
صحرا میں کشتیوں کو اتارا کروں گا میں
دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا
یہ کس جگہ پہ میں تمہاری جستجو میں آ گیا
وہ سرو قامت ہو گیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے
جانے کہاں سے زور سا اس کی نمو میں آ گیا
بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کے پلٹا ہے
اور نور کا سیلاب سا اس آب جو میں آ گیا
قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے
یہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے
سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودے
وگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے
سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھا
شُتر سُوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
اے تعصب زدہ دنیا تِرے کردار پہ خاک
بغض کی گرد میں لپٹے ہوئے معیار پہ خاک
ایک عرصے سے مِری ذات میں آباد ہے دشت
ایک عرصے سے پڑی ہے در و دیوار پہ خاک
وہ غزالوں سے ابھی سیکھ کے رم لوٹا ہے
بال ہیں دھول میں گم اور لب و رخسار پہ خاک
مِرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے
سو لگتا ہے کہانی ختم ہوتی جا رہی ہے
اسے چھُو کر لبوں سے پھول جھڑنے لگ گئے ہیں
مِری آتش فشانی ختم ہوتی جا رہی ہے
سُلگتے دشت میں اب دھوپ سہنا پڑ گئی ہے
تمہاری سائبانی ختم ہوتی جا رہی ہے
کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا
جلتے ہوئے دیوں کی سہیلی ہوئی ہوا
شدت سے ہانپ ہانپ کے مردہ سی ہو چکی
وحشت زدہ چراغ سے کھیلی ہوئی ہوا
پلٹی تو داستان بھی پلٹے گی ایک دم
وادی کی بند سمت دھکیلی ہوئی ہوا
دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے
اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے
میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک
خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے
عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے
یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے
یہ تعلق تِری پہچان بنا سکتا تھا
تُو مِرے ساتھ بہت نام کما سکتا تھا
یہ بھی اعجاز مجھے عشق نے بخشا تھا کبھی
اس کی آواز سے میں دیپ جلا سکتا تھا
میں نے بازار میں اک بار ضیا بانٹی تھی
میرا کردار مِرے ہاتھ کٹا سکتا تھا
دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے
اس پوری کائنات میں کتنا سراب ہے
روزانہ اک فقیر لگاتا ہے یہ صدا
دنیا سراب ہے ارے دنیا سراب ہے
موسیٰ نے ایک خواب حقیقت بنا دیا
ویسے تو گہرے پانی میں رستہ سراب ہے
جو تِرے غم کی گرانی سے نکل سکتا ہے
ہر مصیبت میں روانی سے نکل سکتا ہے
تُو جو یہ جان ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہے
تیرا کردار کہانی سے نکل سکتا ہے
شہرِ انکار کی پُر پیچ سی ان گلیوں سے
تُو فقط عجزِ بیانی سے نکل سکتا ہے
غُبار ابر بن گیا، کمال کر دیا گیا
ہری بھری رُتوں کو میری شال کر دیا گیا
قدم قدم پہ کاسہ لے کے زندگی تھی راہ میں
سو جو بھی اپنے پاس تھا نکال کر دیا گیا
میں زخم زخم ہو گیا، لہو وفا کو رو گیا
لڑائی چِھڑ گئی تو مجھ کو ڈھال کر دیا گیا
کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں
خاک سے اٹھے ہیں سو خاک ہی ہونا ہے ہمیں
پھر تعلق کے بکھرنے کی شکایت کیسی
جب اسے کانچ کے دھاگوں میں پرونا ہے ہمیں
انگلیوں کی سبھی پوروں سے لہو رستا ہے
اپنے دامن کے یہ کس داغ کو دھونا ہے ہمیں