Thursday, 20 January 2022

بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں

 بستی سے چند روز کنارہ کروں گا میں

وحشت کو جا کے دشت میں مارا کروں گا میں

ویسے تو یہ زمین مِرے کام کی نہیں

لیکن اب اس کے ساتھ گزارا کروں گا میں

شاید کہ اس سے مردہ سمندر میں جان آئے

صحرا میں کشتیوں کو اتارا کروں گا میں

منظر کا رنگ رنگ نگاہوں میں آئے گا

اک ایسے زاویے سے نظارہ کروں گا میں

اے مہرباں اجل مجھے کچھ وقت چاہیۓ

جب جی بھرا تو تم کو اشارہ کروں گا میں


احمد خیال

No comments:

Post a Comment