Thursday, 20 January 2022

ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیں

 ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیں

ٹھہر گیا ہے نظر میں وہی نظارہ کہیں

کہیں کو کھینچ رہی ہے کشش زمانے کی

بلا رہا ہے تری آنکھ کا اشارہ کہیں

یہ لہر بہر جو ملتی ہے ہر طرف دل میں

بدل گیا ہی نہ ہو زندگی کا دھارہ کہیں

یہ سوچ کر بھی تو اس سے نباہ ہو نہ سکا

کسی سے ہو بھی سکا ہے مرا گزارہ کہیں

رواں دواں رہو ہر چند آفتاب حسین

دکھائی دیتا نہیں دور تک کنارہ کہیں


آفتاب حسین

No comments:

Post a Comment