Showing posts with label رزب تبریز. Show all posts
Showing posts with label رزب تبریز. Show all posts

Sunday, 25 May 2025

زخم گناہ چاہتی ہے جان ان دنوں

 زخم گناہ چاہتی ہے جان ان دنوں

آنسو ہی اب تو ہو گئے پہچان ان دنوں

دوشیزۂ زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا

ہے موت کی حسینہ سے پیمان ان دنوں

سنگ کھاتے کھاتے مر گیا آشفتہ آدمی

زندہ ہے مجھ میں اک نیا انسان ان دنوں

Monday, 13 May 2024

ہمیں دریافت کرنے سے ہمیں تسخیر کرنے تک

 ہمیں دریافت کرنے سے ہمیں تسخیر کرنے تک

بہت ہیں مرحلے باقی ہمیں زنجیر کرنے تک

ہمارے ہجر کے قصے سمیٹو گے تو لکهو گے

ہزاروں بار سوچو گے ہمیں تحریر کرنے تک

ہمارا دل ہے پیمانہ، سو پیمانہ تو چهلکے گا

چلو دو گهونٹ تم بهر لو ہمیں تاثیر کرنے تک

Sunday, 12 May 2024

آہ بصورتِ عشق یہ گدازیاں

 شاخسانہ


آہ بصورتِ عشق یہ گدازیاں

کبھی خود کی خود پہ جھیل تُو

کبھی عقد کر تو سرور سے

کبھی کھول نشے کی نکیل تُو

کبھی علم ہو تجھے بے خودی

کبھی خرد کو کر فیل تُو

Thursday, 23 December 2021

چلو جنگل چلیںادیب کب ہوا کوئی خطیب کب ہوا

ادیب کب ہُوا کوئی خطیب کب ہُوا

دل قتل گاہِ ذات کی تہذیب کب ہوا

ہمزاد پہ الزام کا فقدان کیا ہوا

رہا اگر مقابل تو حبیب کب ہوا

حجاب کیسے راتوں رات ہو گیا آزاد

ذات کا غلام یہ منیب کب ہوا