زخم گناہ چاہتی ہے جان ان دنوں
آنسو ہی اب تو ہو گئے پہچان ان دنوں
دوشیزۂ زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا
ہے موت کی حسینہ سے پیمان ان دنوں
سنگ کھاتے کھاتے مر گیا آشفتہ آدمی
زندہ ہے مجھ میں اک نیا انسان ان دنوں
زخم گناہ چاہتی ہے جان ان دنوں
آنسو ہی اب تو ہو گئے پہچان ان دنوں
دوشیزۂ زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا
ہے موت کی حسینہ سے پیمان ان دنوں
سنگ کھاتے کھاتے مر گیا آشفتہ آدمی
زندہ ہے مجھ میں اک نیا انسان ان دنوں
ہمیں دریافت کرنے سے ہمیں تسخیر کرنے تک
بہت ہیں مرحلے باقی ہمیں زنجیر کرنے تک
ہمارے ہجر کے قصے سمیٹو گے تو لکهو گے
ہزاروں بار سوچو گے ہمیں تحریر کرنے تک
ہمارا دل ہے پیمانہ، سو پیمانہ تو چهلکے گا
چلو دو گهونٹ تم بهر لو ہمیں تاثیر کرنے تک
شاخسانہ
آہ بصورتِ عشق یہ گدازیاں
کبھی خود کی خود پہ جھیل تُو
کبھی عقد کر تو سرور سے
کبھی کھول نشے کی نکیل تُو
کبھی علم ہو تجھے بے خودی
کبھی خرد کو کر فیل تُو
ادیب کب ہُوا کوئی خطیب کب ہُوا
دل قتل گاہِ ذات کی تہذیب کب ہوا
ہمزاد پہ الزام کا فقدان کیا ہوا
رہا اگر مقابل تو حبیب کب ہوا
حجاب کیسے راتوں رات ہو گیا آزاد
ذات کا غلام یہ منیب کب ہوا