Showing posts with label اطہر راز. Show all posts
Showing posts with label اطہر راز. Show all posts

Sunday, 17 July 2022

مصور کا ہاتھ اس کے جسم سے کٹ کر گر پڑا تھا

 مصور کا ہاتھ


مشینوں سے اسے نفرت تھی 

لیکن کارخانے میں 

مشینوں کے سوا 

ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا 

وہ خوابوں کا مصور جس کے خوابوں میں عموماً 

Monday, 27 December 2021

پھولوں سے بہاروں میں جدا تھے تو ہمیں تھے

 پھولوں سے بہاروں میں جدا تھے تو ہمیں تھے

کانٹوں کی چبھن پہ بھی فدا تھے تو ہمیں تھے

بازارِ تمنا میں تو ہر شخص مگن تھا

ہر موڑ پہ دنیا سے خفا تھے تو ہمیں تھے

جس بت کو تصور میں خدا مان لیا تھا

اس بت کی نگاہوں میں خدا تھے تو ہمیں تھے

Wednesday, 22 December 2021

غم کے بادل دل ناشاد پہ ایسے چھائے

 غم کے بادل دلِ ناشاد پہ ایسے چھائے

سایۂ گل میں بھی ہمراز نہ ہنسنے پائے

یوں تصور میں دبے پاؤں تِری یاد آئی

جس طرح شام کی بانہوں میں ستارے آئے

وقت کی دھوپ میں ہم سایۂ حسرت بن کر

دو گھڑی کُوئے تمنا میں نہ چلنے پائے

Tuesday, 21 December 2021

وہ خوابوں کا مصور

 مصور کا ہاتھ


شیئر کریں

مشینوں سے اسے نفرت تھی

لیکن کارخانے میں

مشینوں کے سوا

ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا

Friday, 9 April 2021

جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہو گا

 جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہو گا

ہمدم مِری قسمت کا ستارہ بھی تو ہو گا

یہ سوچ کے اس شہر میں ہم آئے تھے شاید

اے جانِ طلب! کوئی ہمارا بھی تو ہو گا

ہم عشق کی منزل میں خطاوار ہیں، لیکن

پہلے تِری جانب سے اشارہ بھی تو ہو گا