مصور کا ہاتھ
مشینوں سے اسے نفرت تھی
لیکن کارخانے میں
مشینوں کے سوا
ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا
وہ خوابوں کا مصور جس کے خوابوں میں عموماً
مصور کا ہاتھ
مشینوں سے اسے نفرت تھی
لیکن کارخانے میں
مشینوں کے سوا
ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا
وہ خوابوں کا مصور جس کے خوابوں میں عموماً
پھولوں سے بہاروں میں جدا تھے تو ہمیں تھے
کانٹوں کی چبھن پہ بھی فدا تھے تو ہمیں تھے
بازارِ تمنا میں تو ہر شخص مگن تھا
ہر موڑ پہ دنیا سے خفا تھے تو ہمیں تھے
جس بت کو تصور میں خدا مان لیا تھا
اس بت کی نگاہوں میں خدا تھے تو ہمیں تھے
غم کے بادل دلِ ناشاد پہ ایسے چھائے
سایۂ گل میں بھی ہمراز نہ ہنسنے پائے
یوں تصور میں دبے پاؤں تِری یاد آئی
جس طرح شام کی بانہوں میں ستارے آئے
وقت کی دھوپ میں ہم سایۂ حسرت بن کر
دو گھڑی کُوئے تمنا میں نہ چلنے پائے
مصور کا ہاتھ
شیئر کریں
مشینوں سے اسے نفرت تھی
لیکن کارخانے میں
مشینوں کے سوا
ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا
جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہو گا
ہمدم مِری قسمت کا ستارہ بھی تو ہو گا
یہ سوچ کے اس شہر میں ہم آئے تھے شاید
اے جانِ طلب! کوئی ہمارا بھی تو ہو گا
ہم عشق کی منزل میں خطاوار ہیں، لیکن
پہلے تِری جانب سے اشارہ بھی تو ہو گا