Tuesday, 21 December 2021

وہ خوابوں کا مصور

 مصور کا ہاتھ


شیئر کریں

مشینوں سے اسے نفرت تھی

لیکن کارخانے میں

مشینوں کے سوا

ان کا کوئی ہمدم نہ ساتھی تھا

وہ خوابوں کا مصور جس کے خوابوں میں عموماً

تلخیاں بھی رنگ بھرتی تھیں

کبھی ماں کی دوا، بہنوں کی شادی

کبھی یادِ وطن کی چاشنی، وہسکی کی کڑواہٹ

تو اس کے اپنے اندر کا مصور

اس سے کہتا تھا

میں قیدی ہوں، مجھے باہر نکالو

مجھے اظہار کے سانچوں میں رکھ کر

لباسِ شام پہنا دو

سحر کی تازگی لے کر مجھے رنگوں سے نہلا دو

مگر اک دن اسے کُوئے ملامت سے نکلنا تھا

مشینیں چل رہی تھیں اور اس کا ہاتھ

اس کے جسم سے کٹ کر

زمیں پر گر پڑا تھا

وہیں ماں کی دوا، بہنوں کی مہندی

اور بیمہ کی رقم لہو میں تر بہ تر تھی


اطہر راز

No comments:

Post a Comment