Showing posts with label غنی غیور. Show all posts
Showing posts with label غنی غیور. Show all posts

Saturday, 8 July 2023

آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک

 آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک

دُھند میں کیا دیکھتا ہوں دیر تک

کُھل گئیں الفاظ کی سب کھڑکیاں

اور ان سے جھانکتا ہوں دیر تک

جس گلی کے دونوں رستے بند ہیں

اس گلی میں دوڑتا ہوں دیر تک

Thursday, 22 June 2023

باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے

باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے

سورج چُھوا نہ تھا کہ مِرے ہاتھ جل گئے

یہ حیرتوں کے بیچ میں حیرت زدہ نقوش

کیسے تماش بین تھے پتھر میں ڈھل گئے

جذبات میں کچھ اس طرح اس کا بدن تھا سُرخ

زنجیر آہنی کے کڑے ہی پگھل گئے

Tuesday, 20 June 2023

شام تک بند رہتا ہے کمرہ مرا

 شام تک بند رہتا ہے کمرہ مِرا

اور کمرے میں تنہا کھلونا مرا

دن کو اُجلی رِدا اوڑھ لیتا ہوں میں

دیکھنا رات کو پھر تماشا مرا

سچ کہا تھا سبھی مجھ سے ناراض ہیں

اب کسی سے نہیں رشتہ ناطہ مرا

Saturday, 10 June 2023

شب ہجراں پہاڑ لگتی ہے

 شبِ ہجراں پہاڑ لگتی ہے

آئینے میں دراڑ لگتی ہے

تیری آغوش سے نکل کے مجھے

ساری دنیا اُجاڑ لگتی ہے

درد کچھ اس طرح سے امڈا ہے

زندگی کوئی بھاڑ لگتی ہے

Tuesday, 6 June 2023

رہ کو گھسیٹا پاؤں سے اپنے چلا بہت

 رہ کو گھسیٹا پاؤں سے اپنے چلا بہت

ہر نقشِ پا مٹا کے میں آگے بڑھا بہت

یہ زندگی ملی بھی تو کیا زندگی ملی

تھوڑا سا جرم اور ہے اس پر سزا بہت

کھویا رہا میں ایک دھنک جیسا خواب میں

مرغِ فریب خُوردہ و سرکردہ تھا بہت