آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک
دُھند میں کیا دیکھتا ہوں دیر تک
کُھل گئیں الفاظ کی سب کھڑکیاں
اور ان سے جھانکتا ہوں دیر تک
جس گلی کے دونوں رستے بند ہیں
اس گلی میں دوڑتا ہوں دیر تک
آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک
دُھند میں کیا دیکھتا ہوں دیر تک
کُھل گئیں الفاظ کی سب کھڑکیاں
اور ان سے جھانکتا ہوں دیر تک
جس گلی کے دونوں رستے بند ہیں
اس گلی میں دوڑتا ہوں دیر تک
باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے
سورج چُھوا نہ تھا کہ مِرے ہاتھ جل گئے
یہ حیرتوں کے بیچ میں حیرت زدہ نقوش
کیسے تماش بین تھے پتھر میں ڈھل گئے
جذبات میں کچھ اس طرح اس کا بدن تھا سُرخ
زنجیر آہنی کے کڑے ہی پگھل گئے
شام تک بند رہتا ہے کمرہ مِرا
اور کمرے میں تنہا کھلونا مرا
دن کو اُجلی رِدا اوڑھ لیتا ہوں میں
دیکھنا رات کو پھر تماشا مرا
سچ کہا تھا سبھی مجھ سے ناراض ہیں
اب کسی سے نہیں رشتہ ناطہ مرا
شبِ ہجراں پہاڑ لگتی ہے
آئینے میں دراڑ لگتی ہے
تیری آغوش سے نکل کے مجھے
ساری دنیا اُجاڑ لگتی ہے
درد کچھ اس طرح سے امڈا ہے
زندگی کوئی بھاڑ لگتی ہے
رہ کو گھسیٹا پاؤں سے اپنے چلا بہت
ہر نقشِ پا مٹا کے میں آگے بڑھا بہت
یہ زندگی ملی بھی تو کیا زندگی ملی
تھوڑا سا جرم اور ہے اس پر سزا بہت
کھویا رہا میں ایک دھنک جیسا خواب میں
مرغِ فریب خُوردہ و سرکردہ تھا بہت