فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا
دل میں جاگے ہوئے فنکار نے سونے نہ دیا
ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ مرے ساتھ گئی
زیرِ سایہ کسی دیوار نے سونے نہ دیا
ایک معصوم سی صورت کو کہیں دیکھا تھا
پھر بھی چشمانِ گنہ گار نے سونے نہ دیا
فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا
دل میں جاگے ہوئے فنکار نے سونے نہ دیا
ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ مرے ساتھ گئی
زیرِ سایہ کسی دیوار نے سونے نہ دیا
ایک معصوم سی صورت کو کہیں دیکھا تھا
پھر بھی چشمانِ گنہ گار نے سونے نہ دیا
حکم آیا ہے کہ فتنے کو بھی فتنہ نہ کہوں
جیسا دیکھا ہے سنا ہے اسے ویسا نہ کہوں
میرے چپ رہنے سے کیا بات سنور جائے گی
لوگ خود بھی تو سمجھتے ہیں کہوں یا نہ کہوں
حسن غمزے سے چھٹا عشق فراموش ہوا
ایسے حالات میں کیا شعر بھی سچا نہ کہوں
حالِ دل میں نے جو دنیا کو سنانا چاہا
مجھ کو ہر شخص نے دل اپنا دکھانا چاہا
اپنی تصویر بنانے کے لیے دنیا میں
میں نے ہر رنگ پہ اک رنگ چڑھانا چاہا
خاکِ دل جوہرِ آئینہ کے کام آ ہی گئی
لاکھ دنیا نے نگاہوں سے گرانا چاہا
ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوا
یہ حرف بے وجود مگر داستاں ہوا
جو کچھ میں کہہ چکا ہوں ذرا اس پہ غور کر
جو کچھ بیاں ہوا ہے بہ مشکل بیاں ہوا
اب تم کو جس خلوص کی ہم سے امید ہے
مدت ہوئی وہ نذر دل دوستاں ہوا
ہم نہ ہوتے بھی تو اتنا ہوتے
کہیں دریا کہیں صحرا ہوتے
جانے کیا خود کو سمجھ رکھا ہے
یہ جو حسرت ہے کہ رسوا ہوتے
ہم سمٹ جاتے جو بانہوں میں تِری
تیری انگڑائی کا دریا ہوتے
رنگ سب مجھ میں تھے تصویر میں کچھ تھا ہی نہیں
رک گئے پاؤں تو زنجیر میں کچھ تھا ہی نہیں
جانے کس سمت بھٹکتی رہیں آنکھیں میری
خواب ہی خواب تھے تعبیر میں کچھ تھا ہی نہیں
کتنے دھندلے تھے دعاوں کے اجالے میرے
بجھ گئی شام تو تاثیر میں کچھ تھا ہی نہیں