Showing posts with label کرار نوری. Show all posts
Showing posts with label کرار نوری. Show all posts

Wednesday, 2 December 2020

فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا

 فن کی اور ذات کی پیکار نے سونے نہ دیا

دل میں جاگے ہوئے فنکار نے سونے نہ دیا

ہر طرف تپتی ہوئی دھوپ مرے ساتھ گئی

زیرِ سایہ کسی دیوار نے سونے نہ دیا

ایک معصوم سی صورت کو کہیں دیکھا تھا

پھر بھی چشمانِ گنہ گار نے سونے نہ دیا

Tuesday, 6 October 2020

حکم آیا ہے کہ فتنے کو بھی فتنہ نہ کہو

 حکم آیا ہے کہ فتنے کو بھی فتنہ نہ کہوں

جیسا دیکھا ہے سنا ہے اسے ویسا نہ کہوں

میرے چپ رہنے سے کیا بات سنور جائے گی

لوگ خود بھی تو سمجھتے ہیں کہوں یا نہ کہوں

حسن غمزے سے چھٹا عشق فراموش ہوا

ایسے حالات میں کیا شعر بھی سچا نہ کہوں

حال دل میں نے جو دنیا کو سنانا چاہا

حالِ دل میں نے جو دنیا کو سنانا چاہا

مجھ کو ہر شخص نے دل اپنا دکھانا چاہا

اپنی تصویر بنانے کے لیے دنیا میں

میں نے ہر رنگ پہ اک رنگ چڑھانا چاہا

خاکِ دل جوہرِ آئینہ کے کام آ ہی گئی

لاکھ دنیا نے نگاہوں سے گرانا چاہا

Sunday, 4 October 2020

ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوا

 ہر چند اپنا حال نہ ہم سے بیاں ہوا

یہ حرف بے وجود مگر داستاں ہوا

جو کچھ میں کہہ چکا ہوں ذرا اس پہ غور کر

جو کچھ بیاں ہوا ہے بہ مشکل بیاں ہوا

اب تم کو جس خلوص کی ہم سے امید ہے

مدت ہوئی وہ نذر دل دوستاں ہوا

Saturday, 3 October 2020

ہم نہ ہوتے بھی تو اتنا ہوتے

 ہم نہ ہوتے بھی تو اتنا ہوتے

کہیں دریا کہیں صحرا ہوتے

جانے کیا خود کو سمجھ رکھا ہے

یہ جو حسرت ہے کہ رسوا ہوتے

ہم سمٹ جاتے جو بانہوں میں تِری

تیری انگڑائی کا دریا ہوتے

رنگ سب مجھ میں تھے تصویر میں کچھ تھا ہی نہیں

 رنگ سب مجھ میں تھے تصویر میں کچھ تھا ہی نہیں

رک گئے پاؤں تو زنجیر میں کچھ تھا ہی نہیں

جانے کس سمت بھٹکتی رہیں آنکھیں میری

خواب ہی خواب تھے تعبیر میں کچھ تھا ہی نہیں

کتنے دھندلے تھے دعاوں کے اجالے میرے

بجھ گئی شام تو تاثیر میں کچھ تھا ہی نہیں

Monday, 31 October 2016

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے

تاریکیوں میں ہم جو گرفتار ہو گئے
شاید سحر سے پہلے ہی بیدار ہو گئے
دنیا یہ کہہ رہی ہے مۓ خوار ہو گئے
دو گھونٹ کیا پیۓ کہ گناہگار ہو گئے
ناکامیوں نے اور بھی سرکش بنا دیا
اتنے ہوئے ذلیل کہ خوددار ہو گئے

تری ہی طرح ہمیں یاد آنے والا ہو

تِری ہی طرح ہمیں یاد آنے والا ہو
تِرے سوا بھی کوئی تو ستانے والا ہو
وہ کس امید پہ گھر میں رہے کہ جس گھر میں
نہ آنے والا ہو کوئی،۔ نہ جانے والا ہو
ہے دوستوں کے لیے آئینہ نظر میری
نظر ملائے جو نظریں ملانے والا ہو

دل ہے چپ بول رہا ہو جیسے

دل ہے چپ بول رہا ہو جیسے
خود میں غم گھول رہا ہو جیسے
اب وہ یوں دیکھ رہا ہے مجھ کو 
ظرف کو تول رہا ہو جیسے
گھِر کے پھر آ گئے کالے بادل 
زلف وہ کھول رہا ہو جیسے

Sunday, 11 October 2015

حال دل میں نے جو دنیا کو سنانا چاہا

حالِ دل میں نے جو دنیا کو سنانا چاہا
مجھ کو ہر شخص نے دل اپنا دیکھانا چاہا
اپنی تصویر بنانے کے لیے دنیا میں
میں نے ہر رنگ پہ اک رنگ چڑھانا چاہا
خاکِ دل جوہرِ آئینہ کے کام آ ہی گئی
لاکھ دنیا نے نگاہوں سے گرانا چاہا

اب ہر کسی کو ان کا طلب گار دیکھ کر

اب ہر کسی کو ان کا طلبگار دیکھ کر
چپ ہو گیا ہوں گرمئ بازار دیکھ کر
یہ گردشِ جہاں بھی مِرے دل کے ساتھ ساتھ
رک رک گئی ہے آپ کی رفتار دیکھ کر
ایں عشقِ جاوداں کی ہے حسرت بھی جاوداں
اک بار پھر بھی دیکھیں گے ہر بار دیکھ کر