Tuesday, 6 October 2020

حکم آیا ہے کہ فتنے کو بھی فتنہ نہ کہو

 حکم آیا ہے کہ فتنے کو بھی فتنہ نہ کہوں

جیسا دیکھا ہے سنا ہے اسے ویسا نہ کہوں

میرے چپ رہنے سے کیا بات سنور جائے گی

لوگ خود بھی تو سمجھتے ہیں کہوں یا نہ کہوں

حسن غمزے سے چھٹا عشق فراموش ہوا

ایسے حالات میں کیا شعر بھی سچا نہ کہوں

خود کشی اور شہادت میں ہے اک فرقِ لطیف

کاش جو کچھ مجھے کہنا ہے وہ تنہا نہ کہوں

کس قدر ظلم ہے حالات کا نوری صاحب

آپ دھوکا مجھے دیں اور میں دھوکا نہ کہوں


کرار نوری

No comments:

Post a Comment