Showing posts with label بربط تونسوی. Show all posts
Showing posts with label بربط تونسوی. Show all posts

Monday, 29 June 2026

جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھپا کر

 جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر

وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر

مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے

نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر

غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے

دلوں میں چراغِ محبت جلا کر

Friday, 5 December 2025

تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے

 تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے

یہ دور کسی طور مجھے راس نہیں ہے

کھلتے تو ہیں پھولوں کی طرح زخمِ جگر بھی

پھولوں کی طرح ان میں مگر باس نہیں ہے

تاریک فضاؤں میں کرن پھوٹ رہی ہے

صد شکر نئی فکر میں اب یاس نہیں ہے

Friday, 20 December 2024

بے اثر اپنی دعاؤں کا اثر لگتا ہے

بے اثر اپنی دعاؤں کا اثر لگتا ہے

کب کسی شاخِ بُریدہ پہ ثمر لگتا ہے

کتنا دُکھ ہے مجھے اس دور کی ناقدری کا

چلتی پھرتی ہوئی اک لاش ہُنر لگتا ہے

سوچتا ہوں کسی آسیب کا سایہ ہی نہ ہو

دل مِرا کس لیے اُجڑا ہُوا گھر لگتا ہے

Thursday, 5 December 2024

ہوش کا دامن چھوٹ رہا ہے

 ہوش کا دامن چھُوٹ رہا ہے

سانس کا رشتہ ٹُوٹ رہا ہے

آج غموں کی شاخوں پر بھی

درد شگوفہ پھُوٹ رہا ہے

بیوہ ماں کا پیارا بچہ

سڑک کا پتھر کُوٹ رہا ہے