جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر
وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر
مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر
غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغِ محبت جلا کر
جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر
وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر
مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر
غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغِ محبت جلا کر
تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے
یہ دور کسی طور مجھے راس نہیں ہے
کھلتے تو ہیں پھولوں کی طرح زخمِ جگر بھی
پھولوں کی طرح ان میں مگر باس نہیں ہے
تاریک فضاؤں میں کرن پھوٹ رہی ہے
صد شکر نئی فکر میں اب یاس نہیں ہے
بے اثر اپنی دعاؤں کا اثر لگتا ہے
کب کسی شاخِ بُریدہ پہ ثمر لگتا ہے
کتنا دُکھ ہے مجھے اس دور کی ناقدری کا
چلتی پھرتی ہوئی اک لاش ہُنر لگتا ہے
سوچتا ہوں کسی آسیب کا سایہ ہی نہ ہو
دل مِرا کس لیے اُجڑا ہُوا گھر لگتا ہے
ہوش کا دامن چھُوٹ رہا ہے
سانس کا رشتہ ٹُوٹ رہا ہے
آج غموں کی شاخوں پر بھی
درد شگوفہ پھُوٹ رہا ہے
بیوہ ماں کا پیارا بچہ
سڑک کا پتھر کُوٹ رہا ہے