Showing posts with label منور بلوچ. Show all posts
Showing posts with label منور بلوچ. Show all posts

Wednesday, 24 December 2025

بھوک اور بارود کی فصلیں اگاتے ہیں

 تاج محل


بھوک اور بارود کی فصلیں اگاتے ہیں

میرے محبوب تاج محل کی تعمیر کا خواب

ماضی کی حماقت تو ہو سکتا ہے

آؤ آج کچھ درس گاہیں تعمیر کریں

اور تخلیق کریں پیا رکے نئے حروف

جن کے مفاہیم میں ترمیم نہ ہو

Saturday, 16 November 2024

قیدیو تم جہاں کہیں بھی ہو

 قیدیو تم جہاں کہیں بھی ہو

تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے

مجھے بھیج دو

ڈر، چیخیں، تنگدستی

دنیا بھر کے محنت کش مزدورو

تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے 

Saturday, 9 November 2024

جدا انسان کو انسان سے کرتے چلے آئے

 تقسیم


جدا انسان کو انسان سے کرتے چلے آئے

کبھی مندر، کبھی گرجا، کبھی سورج کی پوجا سے

لگا کر ہر جگہ بازار اسلحے کا

بچے، پھول، شبنم اور پھر سبزہ زمین کا

سب جلا ڈالا

عجب منڈی لگی ہے

Friday, 21 January 2022

میرے پاس آ میرے ساتھ بیٹھ

میرے پاس آ

میرے ساتھ بیٹھ

کبھی رج کے مجھ سے بات کر

میرے شہرِ جہاں میں اُتر کبھی

میری دھڑکنوں کو سماعت کر

نئے ساز سُن


منور بلوچ