تاج محل
بھوک اور بارود کی فصلیں اگاتے ہیں
میرے محبوب تاج محل کی تعمیر کا خواب
ماضی کی حماقت تو ہو سکتا ہے
آؤ آج کچھ درس گاہیں تعمیر کریں
اور تخلیق کریں پیا رکے نئے حروف
جن کے مفاہیم میں ترمیم نہ ہو
تاج محل
بھوک اور بارود کی فصلیں اگاتے ہیں
میرے محبوب تاج محل کی تعمیر کا خواب
ماضی کی حماقت تو ہو سکتا ہے
آؤ آج کچھ درس گاہیں تعمیر کریں
اور تخلیق کریں پیا رکے نئے حروف
جن کے مفاہیم میں ترمیم نہ ہو
قیدیو تم جہاں کہیں بھی ہو
تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے
مجھے بھیج دو
ڈر، چیخیں، تنگدستی
دنیا بھر کے محنت کش مزدورو
تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے
تقسیم
جدا انسان کو انسان سے کرتے چلے آئے
کبھی مندر، کبھی گرجا، کبھی سورج کی پوجا سے
لگا کر ہر جگہ بازار اسلحے کا
بچے، پھول، شبنم اور پھر سبزہ زمین کا
سب جلا ڈالا
عجب منڈی لگی ہے
میرے پاس آ
میرے ساتھ بیٹھ
کبھی رج کے مجھ سے بات کر
میرے شہرِ جہاں میں اُتر کبھی
میری دھڑکنوں کو سماعت کر
نئے ساز سُن
منور بلوچ