Sunday, 7 June 2026

تخت میرا ہے تاج کس کا ہے

 تخت میرا ہے تاج کس کا ہے

میرا اپنا مزاج کس کا ہے

روشنی کی مجھے نہیں حاجت

ماں کے آگے سراج کس کا ہے

دیکھتے ہیں رُتوں کی پیشانی

کل بھی کس کا تھا آج کس کا ہے

بستی جنگل میں کھیلتے بچے

کس سے پُوچھوں سماج کس کا ہے

آسمانوں کی بات کرتے ہو

دسترس میں رواج کس کا ہے

اپنے ماں باپ کے لیے خوشتر

رات دن سا خِراج کس کا ہے


خوشتر مکرانوی

No comments:

Post a Comment