تخت میرا ہے تاج کس کا ہے
میرا اپنا مزاج کس کا ہے
روشنی کی مجھے نہیں حاجت
ماں کے آگے سراج کس کا ہے
دیکھتے ہیں رُتوں کی پیشانی
کل بھی کس کا تھا آج کس کا ہے
بستی جنگل میں کھیلتے بچے
کس سے پُوچھوں سماج کس کا ہے
آسمانوں کی بات کرتے ہو
دسترس میں رواج کس کا ہے
اپنے ماں باپ کے لیے خوشتر
رات دن سا خِراج کس کا ہے
خوشتر مکرانوی
No comments:
Post a Comment