Tuesday, 23 June 2026

شہر انا تھا میں دروازہ تھے تم بھی

 منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی

خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی

اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے

عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی

میں صدیوں کی آرائش کرنے والا

میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی

جتنے موسم بیت گئے سب مجھ سے تھے

ہر موسم کا وصف شگفتہ تھے تم بھی

یوں بھی میری چاہت کو کب راہ ملی

ظرف تمنا سے ہی زیادہ تھے تم بھی

میں بھی اپنی ذات میں تھا آفاق اثر

اپنے آپ میں بے اندازہ تھے تم بھی

ہم دونوں مل کر ہی ایک اکائی تھے

شہر انا تھا میں دروازہ تھے تم بھی


تنویر وصفی

No comments:

Post a Comment