منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی
خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی
اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے
عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی
میں صدیوں کی آرائش کرنے والا
میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی
جتنے موسم بیت گئے سب مجھ سے تھے
ہر موسم کا وصف شگفتہ تھے تم بھی
یوں بھی میری چاہت کو کب راہ ملی
ظرف تمنا سے ہی زیادہ تھے تم بھی
میں بھی اپنی ذات میں تھا آفاق اثر
اپنے آپ میں بے اندازہ تھے تم بھی
ہم دونوں مل کر ہی ایک اکائی تھے
شہر انا تھا میں دروازہ تھے تم بھی
تنویر وصفی
No comments:
Post a Comment