کیے آنے میں اس نے بھی بہانے
کہ دیکھی تھی ادا تیری قضا نے
نہیں یہ آدمی کا کام واعظ
ہمارے بُت تراشے ہیں خُدا نے
نزاکت کو پسینہ آ نہ جائے
کسے باندھا تِرے بندِ قبا نے
تم آئے دل میں یا جھونکا صبا کا
لگیں حسرت کی کلیاں مُسکرانے
ہوا ہے خُون کس کا شوقِ پا بوس
چھُپایا ہے جسے برگِ حِنا نے
خموش اب تک نہ رہتا شورِ محشر
لگا دی مہر تیرے نقشِ پا نے
چمن میں کون آتا ہے بیاں آج
کیا رقص و سرُود آب و ہوا نے
بیان میرٹھی
سید محمد مرتضیٰ بیان
No comments:
Post a Comment