Friday, 26 June 2026

کئے آنے میں اس نے بھی بہانے

کیے آنے میں اس نے بھی بہانے

کہ دیکھی تھی ادا تیری قضا نے

نہیں یہ آدمی کا کام واعظ

ہمارے بُت تراشے ہیں خُدا نے

نزاکت کو پسینہ آ نہ جائے

کسے باندھا تِرے بندِ قبا نے

تم آئے دل میں یا جھونکا صبا کا

لگیں حسرت کی کلیاں مُسکرانے

ہوا ہے خُون کس کا شوقِ پا بوس

چھُپایا ہے جسے برگِ حِنا نے

خموش اب تک نہ رہتا شورِ محشر

لگا دی مہر تیرے نقشِ پا نے

چمن میں کون آتا ہے بیاں آج

کیا رقص و سرُود آب و ہوا نے


بیان میرٹھی

سید محمد مرتضیٰ بیان

No comments:

Post a Comment