کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم
نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم
فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر
ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم
ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے
ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم
تلاشِ خضرِ طریقت ہے اس لیے سالک
کہاں ہے چشمۂ حیواں ہمیں نہیں معلوم
تلاشِ یار میں ساقی ہوئے ہیں سرگرداں
کہاں ہے منزلِ جاناں ہمیں نہیں معلوم
جواہر ناتھ ساقی
پنڈت جواہر ناتھ کول
No comments:
Post a Comment