Wednesday, 10 June 2026

سجدۂ شکر تو کر ہی لیں اذاں سے پہلے

 ان کی نظروں سے ملی داد فغاں سے پہلے

قلب بیدار دیا ہم کو زباں سے پہلے

اور بھی آئے ہیں عقال یہاں مارکس کے بعد

جیسے گزرے ہیں حسیں نورجہاں سے پہلے

جھوٹ اور سچ کو تو پھر دیکھیں گے پہلے یہ کہیں

آپ نے بات سنی ہے یہ کہاں سے پہلے

اس کو بھی اک تِرا اندازِ تغافل جانا

بات کا میری سمجھنا وہ بیاں سے پہلے

رند اور شیخ کی باتوں میں وہ کیسے الجھیں

جن کو ایقان ملا، وہم و گماں سے پہلے

کیا توقع کبھی گلشن میں بہار آنے کی

بجلیاں کوندتی پھرتی ہیں خزاں سے پہلے

اب جو بچھڑیں تو خدا جانے ملیں یا نہ ملیں

سجدۂ شکر تو کر ہی لیں اذاں سے پہلے


خالد حسن قادری

No comments:

Post a Comment