ان کی نظروں سے ملی داد فغاں سے پہلے
قلب بیدار دیا ہم کو زباں سے پہلے
اور بھی آئے ہیں عقال یہاں مارکس کے بعد
جیسے گزرے ہیں حسیں نورجہاں سے پہلے
جھوٹ اور سچ کو تو پھر دیکھیں گے پہلے یہ کہیں
آپ نے بات سنی ہے یہ کہاں سے پہلے
اس کو بھی اک تِرا اندازِ تغافل جانا
بات کا میری سمجھنا وہ بیاں سے پہلے
رند اور شیخ کی باتوں میں وہ کیسے الجھیں
جن کو ایقان ملا، وہم و گماں سے پہلے
کیا توقع کبھی گلشن میں بہار آنے کی
بجلیاں کوندتی پھرتی ہیں خزاں سے پہلے
اب جو بچھڑیں تو خدا جانے ملیں یا نہ ملیں
سجدۂ شکر تو کر ہی لیں اذاں سے پہلے
خالد حسن قادری
No comments:
Post a Comment