Sunday, 14 June 2026

جھوٹ کو سچ کبھی نہیں کہتے

 جھُوٹ کو سچ کبھی نہیں کہتے

آہ کو نغمگی نہیں کہتے

ان کہی ان کہی ہی رہتی ہے

ان کہی کو کہی نہیں کہتے

رات کی آنکھ نم اگر نہ ہو

صُبح کو شبنمی نہیں کہتے

جھُوٹ فطرت میں جن کے شامل ہو

بات سچی کبھی نہیں کہتے

جو کسی اور کے نہ کام آئے

ہم اسے زندگی نہیں کہتے

عشق تو عشق ہے ضیاء اس کو

ہم کبھی دل لگی نہیں کہتے


حسن ضیا

No comments:

Post a Comment