Friday, 12 June 2026

تجھے تو لہر بھی موج رواں نظر آئی

 تجھے تو لہر بھی، موجِ رواں نظر آئی

رِدائے خواب میں تھی میں، کہاں نظر آئی

خیال تھا، مِرے گھر پر بہار اُتری ہے

کواڑ کھولے ہیں جب بھی، خزاں نظر آئی

مِرا یقین، محبت 💓ہے درمیاں اپنے

مگر یہ کارِ حقیقت ❤ گُماں نظر آئی

شبِ فِراق میں ایسا دِیا 🪔 جلایا ہے

یہ رمزِ عشق بھی، شعلہ فشاں نظر آئی

پگھل چکی ہیں یہ آنکھیں، فِراق میں تیرے

میں موم ہوتے سمے، بے زُباں نظر آئی

غمِ فِراق میں ہوتا ہے چاک سینہ بھی

خلِش یہ دل کی، غمِ بیکراں نظر آئی

کبھی تو ہاتھ تھمایا ہے، زِیست کو میں نے

کبھی یہ موت، مجھے مہرباں نظر آئی

خزاں کے دور میں یہ رنگ ہے ہرا کیسے 

کلی چمن میں کوئی، شادماں نظر آئی

مِلی ہے کارِ محبت میں روشنی ایسی

مجھے یہ راکھ مِری، ضو فِشاں نظر آئی

خیالِ یار میں ڈوبی ہوں اس قدر اسماء

میں ان کہی میں، کہی داستاں نظر آئی


اسماء آرزو

No comments:

Post a Comment