Thursday, 25 June 2026

زندگی تجھ سے کی تھی آس بہت

 نظروں کے یہ تیور لب و رُخسار کا لہجہ

غُنچوں میں چٹکنے لگا گُلزار کا لہجہ

آنکھوں کی جل پری نے خیالوں کی ریت پر

نٹ کھٹ سمندروں کے گھروندے بنائے تھے

گھر کے آنگن سے بھی اُٹھتا ہے غُبار

صرف گلیوں ہی میں دُھول اُڑتی نہیں

پُتلیوں میں بٹھا کے ساری رات

صُبح دم آنکھ سے اُتاری رات

دل کی دھڑکن چاپ تمہارے کومل کومل قدموں کی

خُوشبو خُوشبو یاد تمہاری پھُول تمہارا سایہ ہے

لپٹ کر اپنی گُڑیا سے اُجالوں میں جو روتی تھی

اندھیروں میں بکھر کر ٹُوٹ کر آئی تھی وہ لڑکی

یہ وہم کی منزل ہے یا خواب کی وادی ہے

اک آشنا لہجے نے پھر دل کو صدا دی ہے

یہ محبت ہے مروّت ہے کہ مفروضہ ہے

تجھ سے اک درد کا رشتہ ہے نہ جانے کیا ہے

یوں ٹھہر جاتا ہے احساسِ وجود

دن نکلتا ہے نہ شب ہوتی ہے

رو پڑیں پھر ذہن میں شہنائیاں

دیکھ کر آکاش کی ڈولی میں چاند

مُدعی عشق کے چہروں ہی پہ مرتے دیکھے

راستے دل کے بدن ہی سے گُزرتے دیکھے

آنکھوں میں کھٹکتے رہے روکے ہوئے آنسو

جُوڑے میں مہکنے کو مہکتی تھی چمیلی

پھر ایسے کرب سے گُزرے کوئی خُدا نہ کرے

کہ آگ آگ جیئے اور راکھ راکھ مرے

تجھ کو بھی بے وفائی کرنی تھی

زندگی! تجھ سے کی تھی آس بہت


تاج مہجور

تاج الدین احمد

No comments:

Post a Comment